Monday, 2 August 2021

داستان غم سنانے لگ گیا

 داستانِ غم سنانے لگ گیا

پھر کوئی مجھ کو رُلانے لگ گیا

میں نے یونہی تشنگی کی بات کی

وہ مجھے دریا دکھانے لگ گیا

خود بخود ہی جل اٹھا بجھتا دِیا

پھر مِرے گھر کو جلانے لگ گیا

تم اسے قسمت کہو کہ معجزہ

ڈوب کر بھی میں ٹھکانے لگ گیا

کٹ رہی تھی ڈور میری سانس کی

اور وہ احساں جتانے لگ گیا

آزمائش سے ابھی نکلا ہوں میں

کون مجھ کو آزمانے لگ گیا

 

سردار جاوید خان

No comments:

Post a Comment