Showing posts with label عادل حیات. Show all posts
Showing posts with label عادل حیات. Show all posts

Monday, 21 February 2022

ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا

 ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا

گئے یُگوں کے بُتوں کا زوال آئے گا

ہُنر کا عکس بھی ہو آئینہ بھی بن جاؤ

پھر اس کے بعد ہی رنگِ کمال آئے گا

حریف جاں ہے اگر وہ تو پھر کہو اس سے

گئی جو جان تو دل کا سوال آئے گا

Saturday, 10 April 2021

درد دل کے طبیب ہوتے ہیں

 دردِ دل کے طبیب ہوتے ہیں 

بعض دشمن عجیب ہوتے ہیں 

وسوسے الجھنیں تمنائیں 

دل کے کتنے رقیب ہوتے ہیں 

ہنستے ہنستے بگڑنا ہو جن کو 

ایسے بھی تو نصیب ہوتے ہیں

Wednesday, 24 March 2021

سن اے مانجھی سن لے کھویا

 کاغذ کی نیّا


سن اے مانجھی سن لے کھویا

کاغذ کی ہے میری نیُا

ہر مشکل سے لڑنا اس کو

آگے آگے بڑھنا اس کو

جا نیا نانی کے گاؤں

Monday, 22 March 2021

ہمیشہ میں نے دیکھا ہے کہ سورج شام ہوتے ہی

 انجام


ہمیشہ میں نے دیکھا ہے

کہ سورج شام ہوتے ہی

سما جاتا ہے اپنی موت کی آغوش میں

لیکن

عجب ہے موت کی وادی

جہاں سے لوٹ کر کوئی نہیں آتا

Sunday, 21 March 2021

کوئی جھونکا ابھی تک منتظر

 کوئی جھونکا


ابھی تک منتظر ہوں میں

کوئی جھونکا ہوا کا اس طرح آئے

کہ اپنے ساتھ لے جائے

اڑا کر آسماں کی بے کرانی میں

جہاں دل میں کوئی خواہش

Friday, 23 December 2016

خیال بن کے مرے دل کے پاس رہتا ہے

خیال بن کے مِرے دل کے پاس رہتا ہے
بچھڑ کے مجھ سے وہ لیکن اداس رہتا ہے
میں سونے پن کو بساتا ہوں اپنے خوابوں میں
وہ لوٹ آئے گا لیکن قیاس رہتا ہے
گزر گیا ہوں میں رد و قبول سے آگے
کسی بھی شے پہ کہاں التباس رہتا ہے

اپنے ہونٹوں پہ کہاں اس نے کہانی رکھی

اپنے ہونٹوں پہ کہاں اس نے کہانی رکھی
بات جو کچھ بھی تھی پلکوں کی زبانی رکھی
دل کی راہوں سے مِری کون ابھی گزرا ہے
کس نے آنکھوں کے دریچوں میں نشانی رکھی
پیاس جاگی، تو میں قطرے کا طلبگار ہوا
اس نے ہونٹوں پہ سمندر کی روانی رکھی

بیاض جاں کے صفحوں پر وہ جس کا نام لکھا تھا

بیاضِ جاں کے صفحوں پر وہ جس کا نام لکھا تھا
اسی کے واسطے اس دل نے ہر پیغام لکھا تھا
مِری قسمت کے لکھے کو مٹانا چاہتا تھا وہ
مِرے ہاتھوں کی ریکھاؤں میں جسکا نام لکھا تھا
کہ ٹوٹے دل کو لیکر اب مجھے بھی لوٹ جانا ہے
جو گزرا شہر میں تیرے، وہی انجام لکھا تھا

وہ لے کے پیاس کا صحرا یہاں تک آیا تھا

نہیں تھی جان مگر وہ بھی مسکرایا تھا
وطن کے نام پہ جس نے لہو بہایا تھا
میں اس کو بھولنا چاہوں یہ ہو نہیں سکتا
وہی تو ہے کہ بھنور سے نکال لایا تھا
وہ ایک شخص کہ چہرے کو پڑھ گیا کیسے
ہمارے حال پہ گرد و غبار چھایا تھا

Tuesday, 13 September 2016

جو سانس لیتا ہوں دل میں چبھن سی ہوتی ہے

جو سانس لیتا ہوں، دل میں چبھن سی ہوتی ہے
کہ شہرِ زیست میں ہر پل گھٹن سی ہوتی ہے
جو اپنی آنکھ سے سورج کو چھو نہیں سکتا
تِرے عروج پہ اس کو جلن سی ہوتی ہے
سفر نگاہ میں روشن تو خوب ہوتا ہے
سفر خیال سے لیکن تھکن سی ہوتی ہے

یہ تیری دید کا منظر ہے معجزہ تو نہیں

یہ تیری دید کا منظر ہے، معجزہ تو نہیں
کہ میرے ذہن کا یہ کوئی واہمہ تو نہیں
جو سرخ سرخ مناظر افق پہ بکھرے ہیں
نظر کا دھوکا ہے یا کوئی حادثہ تو نہیں
وہ رہگزر جو تِرے گھر کی سمت جاتی ہے
وہ چاہتوں کا مِری آخری سِرا تو نہیں

ماضی نے جو لکھی تھی وہ تحریر دیکھ لی

ماضی نے جو لکھی تھی وہ تحریر دیکھ لی
دنیا نے اپنے حال کی تصویر دیکھ لی
اب خیر ہی مناؤ، کہ شہرِ پناہ میں
پیاسی کسی کی آنکھ نے شمشیر دیکھ لی
دل نے تو کر لیا تِرے چہرے کا انتخاب
نظروں سے پوچھ لینا کہ تفسیر دیکھ لی

Saturday, 6 August 2016

نہاں جو وہ نظارا ہے، کہاں ہے

نہاں جو وہ نظارا ہے، کہاں ہے
مِری قسمت کا تارا ہے، کہاں ہے
ہمیں جو کھینچتا ہے اپنی جانب
کہاں منظر وہ سارا ہے، کہاں ہے
وہ سپنا روز جس کو دیکھتا ہوں
تِرا ہی استعارا ہے، کہاں ہے

آنکھیں بجھی بجھی ہیں، مگر رات ہے کہاں

آنکھیں بجھی بجھی ہیں، مگر رات ہے کہاں
حصے میں میرے خواب کی سوغات ہے کہاں
بے سمت منزلوں کا میں کرتا رہا طواف
سایا بھی میرا اب کہ مِرے ساتھ ہے کہاں
اس کو بھی ہار اپنی نہیں ہے قبول، اور
میرے نصیب میں بھی لکھی مات ہے کہاں

Friday, 13 May 2016

میں یوں شکوہ نہیں کرتا مجھے گر مات بھی ہوتی

میں یوں شکوہ نہیں کرتا مجھے گر مات بھی ہوتی
شکستہ پر اگر ہوتا تو کوئی بات بھی ہوتی
سفر کی دھند آنکھوں میں کئی نقشے بناتی ہے
مگرشہپر یہ کہتے ہیں کہیں اب رات بھی ہوتی
ہمیشہ دوستوں سے اپنے میں ہی جیت جاتا ہوں
مقابل آئینہ ہوتا کبھی تو مات بھی ہوتی

خواہش دل کو بجھے بھی اک زمانا ہو گیا

خواہشِ دل کو بجھے بھی اک زمانا ہو گیا
بے بسی تجھ سے مِرا رشتا پرانا ہو گیا
تھا بہت مشہور وہ اپنے ہنر کے رنگ میں
آج پھر اس سے خطا کیوں ہر نشانا ہو گیا
آؤ پھر دل کی عبادت گاہ مشترکہ بنے
نفرتوں کے شہر میں آنسو بہانا ہو گیا