ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا
گئے یُگوں کے بُتوں کا زوال آئے گا
ہُنر کا عکس بھی ہو آئینہ بھی بن جاؤ
پھر اس کے بعد ہی رنگِ کمال آئے گا
حریف جاں ہے اگر وہ تو پھر کہو اس سے
گئی جو جان تو دل کا سوال آئے گا
ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا
گئے یُگوں کے بُتوں کا زوال آئے گا
ہُنر کا عکس بھی ہو آئینہ بھی بن جاؤ
پھر اس کے بعد ہی رنگِ کمال آئے گا
حریف جاں ہے اگر وہ تو پھر کہو اس سے
گئی جو جان تو دل کا سوال آئے گا
دردِ دل کے طبیب ہوتے ہیں
بعض دشمن عجیب ہوتے ہیں
وسوسے الجھنیں تمنائیں
دل کے کتنے رقیب ہوتے ہیں
ہنستے ہنستے بگڑنا ہو جن کو
کاغذ کی نیّا
سن اے مانجھی سن لے کھویا
کاغذ کی ہے میری نیُا
ہر مشکل سے لڑنا اس کو
آگے آگے بڑھنا اس کو
جا نیا نانی کے گاؤں
انجام
ہمیشہ میں نے دیکھا ہے
کہ سورج شام ہوتے ہی
سما جاتا ہے اپنی موت کی آغوش میں
لیکن
عجب ہے موت کی وادی
جہاں سے لوٹ کر کوئی نہیں آتا
کوئی جھونکا
ابھی تک منتظر ہوں میں
کوئی جھونکا ہوا کا اس طرح آئے
کہ اپنے ساتھ لے جائے
اڑا کر آسماں کی بے کرانی میں
جہاں دل میں کوئی خواہش