اپنے ہونٹوں پہ کہاں اس نے کہانی رکھی
بات جو کچھ بھی تھی پلکوں کی زبانی رکھی
دل کی راہوں سے مِری کون ابھی گزرا ہے
کس نے آنکھوں کے دریچوں میں نشانی رکھی
پیاس جاگی، تو میں قطرے کا طلبگار ہوا
جانے کب سے ہے تعاقب میں خزاں کا موسم
رت مگر میرے لیے کس نے سہانی رکھی
رات آئی، تو مجھے یاد نہ آیا کچھ بھی
صبح نے آ کے دل و جاں میں گرانی رکھی
کس نے عادؔل کے تخیل کو تہہ و بالا کیا
کس نے لفظوں میں نئی شکل معانی رکھی
عادل حیات
No comments:
Post a Comment