Friday, 23 December 2016

اپنے ہونٹوں پہ کہاں اس نے کہانی رکھی

اپنے ہونٹوں پہ کہاں اس نے کہانی رکھی
بات جو کچھ بھی تھی پلکوں کی زبانی رکھی
دل کی راہوں سے مِری کون ابھی گزرا ہے
کس نے آنکھوں کے دریچوں میں نشانی رکھی
پیاس جاگی، تو میں قطرے کا طلبگار ہوا
اس نے ہونٹوں پہ سمندر کی روانی رکھی
جانے کب سے ہے تعاقب میں خزاں کا موسم
رت مگر میرے لیے کس نے سہانی رکھی
رات آئی، تو مجھے یاد نہ آیا کچھ بھی
صبح نے آ کے دل و جاں میں گرانی رکھی
کس نے عادؔل کے تخیل کو تہہ و بالا کیا
کس نے لفظوں میں نئی شکل معانی رکھی

عادل حیات

No comments:

Post a Comment