خیال بن کے مِرے دل کے پاس رہتا ہے
بچھڑ کے مجھ سے وہ لیکن اداس رہتا ہے
میں سونے پن کو بساتا ہوں اپنے خوابوں میں
وہ لوٹ آئے گا لیکن قیاس رہتا ہے
گزر گیا ہوں میں رد و قبول سے آگے
مِری نگاہیں تِرا کیوں طواف کرتی ہیں
زباں کی نوک پہ کیوں التماس رہتا ہے
وہ جس نے چھین لیا میری آنکھ سے منظر
وہی تو شہر میں اک خوش لباس رہتا ہے
تلاش جس کی رہی شہر جستجو کو حیاؔت
وہ عکس ہے تو مِرے آس پاس رہتا ہے
عادل حیات
No comments:
Post a Comment