Showing posts with label کنول ڈبائیوی. Show all posts
Showing posts with label کنول ڈبائیوی. Show all posts

Saturday, 12 August 2023

تعجب یہ نہیں ہے غم کے ماروں کو نہ چین آیا

 تعجب یہ نہیں ہے غم کے ماروں کو نہ چین آیا

تڑپنا دیکھ کر میرا ستاروں کو نہ چین آیا

بڑھی بے تابئ دل جب تو بہنے ہی لگے آنسو

مِرے ہمراہ ان پنہاں ستاروں کو نہ چین آیا

رہے گردش میں ساری رات میری بے قراری پر

بڑے ہمدرد نکلے، چاند تاروں کو نہ چین آیا

Monday, 22 May 2023

ماہ و انجم کی روشنی گم ہے

 ماہ و انجم کی روشنی گُم ہے

کیا ہر اک بزم سے خوشی گم ہے

چاند دُھندلا ہے چاندنی گم ہے

حسن والوں میں دلکشی گم ہے

زندگی گم نہ دوستی گم ہے

یہ حقیقت ہے آدمی گم ہے

Sunday, 30 April 2023

نہ گھوم دشت میں تو صحن گلستاں سے گزر

 نہ گھوم دشت میں تُو صحنِ گلستاں سے گُزر

جو چاہتا ہے بلندی تو کہکشاں سے گزر

زمیں کو چھوڑ کے ناداں نہ آسماں سے گزر

ضرورت اس کی ہے تو ان کے آستاں سے گزر

اسی سے تیری عبادت پہ رنگ آئے گا

جبیں جھکانا ہوا ان کے آستاں سے گزر

Thursday, 27 April 2023

نظر کا مل کے ٹکرانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

 نظر کا مل کے ٹکرانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

محبت کا وہ افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

ستایا تھا ہمیں کتنا زمانے کے تغیر نے

زمانے کا بدل جانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

بھری برسات میں پیہم جدائی کے تصور سے

وہ مل کر اشک برسانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے

Tuesday, 30 November 2021

غم کا اظہار بھی کرنے نہیں دیتی دنیا

غم کا اظہار بھی کرنے نہیں دیتی دنیا

اور مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتی دنیا

سب ہی مے خانۂ ہستی سے پیا کرتے ہیں

مجھ کو اک جام بھی بھرنے نہیں دیتی دنیا

آستاں پر تِرے ہم سر کو جھکا تو لیتے

سر سے یہ بوجھ اترنے نہیں دیتی دنیا

Friday, 9 April 2021

کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں

 کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں

زندگی میں پنہاں ہے اک چُبھن نہ جانے کیوں

اور بھی بہت سے ہیں لوٹنے کو دنیا میں

بن گئے ہیں رہبر ہی راہزن نہ جانے کیوں

ان کی فکر اعلیٰ پر لوگ سر کو دُھنتے تھے

آج وہ پریشاں ہیں اہلِ فن نہ جانے کیوں