تعجب یہ نہیں ہے غم کے ماروں کو نہ چین آیا
تڑپنا دیکھ کر میرا ستاروں کو نہ چین آیا
بڑھی بے تابئ دل جب تو بہنے ہی لگے آنسو
مِرے ہمراہ ان پنہاں ستاروں کو نہ چین آیا
رہے گردش میں ساری رات میری بے قراری پر
بڑے ہمدرد نکلے، چاند تاروں کو نہ چین آیا
تعجب یہ نہیں ہے غم کے ماروں کو نہ چین آیا
تڑپنا دیکھ کر میرا ستاروں کو نہ چین آیا
بڑھی بے تابئ دل جب تو بہنے ہی لگے آنسو
مِرے ہمراہ ان پنہاں ستاروں کو نہ چین آیا
رہے گردش میں ساری رات میری بے قراری پر
بڑے ہمدرد نکلے، چاند تاروں کو نہ چین آیا
ماہ و انجم کی روشنی گُم ہے
کیا ہر اک بزم سے خوشی گم ہے
چاند دُھندلا ہے چاندنی گم ہے
حسن والوں میں دلکشی گم ہے
زندگی گم نہ دوستی گم ہے
یہ حقیقت ہے آدمی گم ہے
نہ گھوم دشت میں تُو صحنِ گلستاں سے گُزر
جو چاہتا ہے بلندی تو کہکشاں سے گزر
زمیں کو چھوڑ کے ناداں نہ آسماں سے گزر
ضرورت اس کی ہے تو ان کے آستاں سے گزر
اسی سے تیری عبادت پہ رنگ آئے گا
جبیں جھکانا ہوا ان کے آستاں سے گزر
نظر کا مل کے ٹکرانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے
محبت کا وہ افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے
ستایا تھا ہمیں کتنا زمانے کے تغیر نے
زمانے کا بدل جانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے
بھری برسات میں پیہم جدائی کے تصور سے
وہ مل کر اشک برسانا نہ تم بھولے نہ ہم بھولے
غم کا اظہار بھی کرنے نہیں دیتی دنیا
اور مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتی دنیا
سب ہی مے خانۂ ہستی سے پیا کرتے ہیں
مجھ کو اک جام بھی بھرنے نہیں دیتی دنیا
آستاں پر تِرے ہم سر کو جھکا تو لیتے
سر سے یہ بوجھ اترنے نہیں دیتی دنیا
کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں
زندگی میں پنہاں ہے اک چُبھن نہ جانے کیوں
اور بھی بہت سے ہیں لوٹنے کو دنیا میں
بن گئے ہیں رہبر ہی راہزن نہ جانے کیوں
ان کی فکر اعلیٰ پر لوگ سر کو دُھنتے تھے
آج وہ پریشاں ہیں اہلِ فن نہ جانے کیوں