Saturday, 24 October 2026

آدمی اور درد سے نا آشنا ممکن نہیں

 آدمی اور درد سے نا آشنا ممکن نہیں

عکس سے خالی ہو کوئی آئینہ ممکن نہیں

آدمی انسان کامل بن تو سکتا ہے مگر

زندگی بھر رہ سکے وہ پارسا ممکن نہیں

دو کنارے جیسے دریا کے نہیں ملتے کبھی

ہم سے اقدام جفا، ان سے وفا ممکن نہیں

کار فرما جب رہے برق نظر آٹھوں پہر

شہر بھر میں ہو نہ کوئی حادثہ ممکن نہیں

کس قدر ہمت شکن ہے گمرہی کا یہ جواز

رہبری از ابتداء تا انتہا ممکن نہیں

شیشہ کوئی چور ہو جائے تو پھر کس کام کا

مٹ کے ہو آباد ایوان وفا ممکن نہیں

آپ پتھر کو نچوڑیں اس سے کیا حاصل متین

تنگ دل انسان ہو حق آشنا ممکن نہیں


متین نیازی

No comments:

Post a Comment