کبھی جو وصل کا وعدہ ترا ظالم وفا ہوتا
لبوں پر آہ ہوتی اور نہ قسمت کا گِلا ہوتا
نقابِ رُخ اٹھا دیتی اگر تُو صحنِ گلشن میں
بڑا احسان مجھ پر تیرا اے بادِ صبا ہوتا
تمنا ہی تمنا میں ہماری زندگی گزری
کبھی تو حالِ دل ظالم ہمارا بھی سنا ہوتا
کبھی جو وصل کا وعدہ ترا ظالم وفا ہوتا
لبوں پر آہ ہوتی اور نہ قسمت کا گِلا ہوتا
نقابِ رُخ اٹھا دیتی اگر تُو صحنِ گلشن میں
بڑا احسان مجھ پر تیرا اے بادِ صبا ہوتا
تمنا ہی تمنا میں ہماری زندگی گزری
کبھی تو حالِ دل ظالم ہمارا بھی سنا ہوتا
باغباں بد گماں نہ ہو جائے
دشمن آشیاں نہ ہو جائے
گردشیں بڑھ رہی ہیں قسمت سے
یہ زمیں آسماں نہ ہو جائے
مسکرا تو رہے ہیں آپ مگر
نذر آتش جہاں نہ ہو جائے
برق مخالف تاک میں دشمن
کس کا گلستاں، کیسا نشیمن
ان کی جوانی ایک قیامت
طالبِ دل، ایمان کی دشمن
ان کا تصور اللہ اللہ
دل کی دنیا روشن روشن
ہجر کے کچھ حالات تو سُن لو
رُودادِ آفات تو سن لو
آئے ہو تو رُک کر جانا
بیٹھ بھی جاؤ بات تو سن لو
کیسے گُزاری کیسے گُزری
ہجر کی ہم نے رات تو سن لو