Showing posts with label پیکاں چاندپوری. Show all posts
Showing posts with label پیکاں چاندپوری. Show all posts

Sunday, 9 August 2026

کیا ڈرائیں گی بجلیاں مجھ کو

 کیا ڈرائیں گی بجلیاں مجھ کو

جب نہیں فکرِ آشیاں مجھ کو

گلستاں کا تِرے نظام ہے کیا

دیکھنا ہے یہ باغباں مجھ کو

اب جھکانا ہے سرکشوں کا سر

کچھ نہیں فکرِ جسم و جاں مجھ کو

Friday, 3 July 2026

چین دل کو نہ آئے گا کب تک

 چین دل کو نہ آئے گا کب تک

وہ مجھے یوں ستائے گا کب تک

اے ستمگر! تِرے ستم آخر

کوئی بیکس اٹھائے گا کب تک

ظرف پر اپنے ناز ہے مجھ کو

آسماں تو ستائے گا کب تک

Sunday, 1 March 2026

لبوں پر آہ ہوتی اور نہ قسمت کا گلا ہوتا

 کبھی جو وصل کا وعدہ ترا ظالم وفا ہوتا

لبوں پر آہ ہوتی اور نہ قسمت کا گِلا ہوتا

نقابِ رُخ اٹھا دیتی اگر تُو صحنِ گلشن میں

بڑا احسان مجھ پر تیرا اے بادِ صبا ہوتا

تمنا ہی تمنا میں ہماری زندگی گزری

کبھی تو حالِ دل ظالم ہمارا بھی سنا ہوتا

Thursday, 21 August 2025

باغباں بد گماں نہ ہو جائے

 باغباں بد گماں نہ ہو جائے

دشمن آشیاں نہ ہو جائے

گردشیں بڑھ رہی ہیں قسمت سے

یہ زمیں آسماں نہ ہو جائے

مسکرا تو رہے ہیں آپ مگر

نذر آتش جہاں نہ ہو جائے

Thursday, 31 July 2025

کس کا گلستاں کیسا نشیمن

 برق مخالف تاک میں دشمن

کس کا گلستاں، کیسا نشیمن

ان کی جوانی ایک قیامت

طالبِ دل، ایمان کی دشمن

ان کا تصور اللہ اللہ

دل کی دنیا روشن روشن

Thursday, 22 April 2021

ہجر کے کچھ حالات تو سن لو

ہجر کے کچھ حالات تو سُن لو

رُودادِ آفات تو سن لو

آئے ہو تو رُک کر جانا

بیٹھ بھی جاؤ بات تو سن لو

کیسے گُزاری کیسے گُزری

ہجر کی ہم نے رات تو سن لو