قریب سے بھی جو پہچان میں نہیں آیا
وہ کون تھا جو مِرے دھیان میں نہیں آیا
یہ پھول دیکھ کے تم تو سمجھ گئے ہو گے
میں جنگ کے لیے میدان میں نہیں آیا
تھے جس کو یاد بہاروں کے لوک گیت سبھی
وہ پھول کانچ کے گلدان میں نہیں آیا
قریب سے بھی جو پہچان میں نہیں آیا
وہ کون تھا جو مِرے دھیان میں نہیں آیا
یہ پھول دیکھ کے تم تو سمجھ گئے ہو گے
میں جنگ کے لیے میدان میں نہیں آیا
تھے جس کو یاد بہاروں کے لوک گیت سبھی
وہ پھول کانچ کے گلدان میں نہیں آیا
میرے ہر خواب کا پرچار مِرے بعد ہوا
دشت میں وا کوئی بازار مرے بعد ہوا
زرد آفاق پہ بے نقش دھنک کا آنچل
سات رنگوں میں نمودار مرے بعد ہوا
روز مقتل میں بدلنے لگے آئینِ ستم
روزنِ حبس ہوا دار مِرے بعد ہوا
وہم ہے یا وہ ابھی موجود ہے
چُھو کے دیکھو کیا کوئی موجود ہے
سب لُٹا دوں گا شبِ تاریک میں
مجھ میں جتنی روشنی موجود ہے
داستاں میں لطف باقی ہے ابھی
اس میں اب تک اک پری موجود ہے
زخموں کو سبز پات سے ڈھکنا پڑا مجھے
تھوڑا سا پھر نمک بھی چھڑکنا پڑا مجھے
ہجرت سے پنچھیوں کی اداسی تھی پیڑ کو
سائے میں اس کے جا کے چہکنا پڑا مجھے
اندر تھی جس قدر بھی اماوس کی تیرگی
باہر سے چاند بن کے چمکنا پڑا مجھے
تمام عمر کٹی سیڑھیاں بنانے میں
فلک سے آنے میں، واپس فلک پہ جانے میں
ہمیشہ لکھتے ہیں مِل کر ہی پیار کے نغمے
مگر جِھجکتے ہیں اک ساتھ ان کو گانے میں
مسافروں نے تو مشکیزے کر لیے خالی
کسی شجر میں لگی آگ کو بُجھانے میں
سوچتے سوچتے بپھر جانا
اور پھر ٹوٹ کر بکھر جانا
مُدتوں رہنا اچھے لوگوں میں
اور کچھ دیر تک سُدھر جانا
دیر تک سوچنا نہ جانے کا
آخری وقت پر مگر جانا