Showing posts with label عادل حسین. Show all posts
Showing posts with label عادل حسین. Show all posts

Wednesday, 30 November 2022

قریب سے بھی جو پہچان میں نہیں آیا

 قریب سے بھی جو پہچان میں نہیں آیا

وہ کون تھا جو مِرے دھیان میں نہیں آیا

یہ پھول دیکھ کے تم تو سمجھ گئے ہو گے

میں جنگ کے لیے میدان میں نہیں آیا

تھے جس کو یاد بہاروں کے لوک گیت سبھی

وہ پھول کانچ کے گلدان میں نہیں آیا

Tuesday, 27 September 2022

میرے ہر خواب کا پرچار مرے بعد ہوا

 میرے ہر خواب کا پرچار مِرے بعد ہوا

دشت میں وا کوئی بازار مرے بعد ہوا

زرد آفاق پہ بے نقش دھنک کا آنچل

سات رنگوں میں نمودار مرے بعد ہوا

روز مقتل میں بدلنے لگے آئینِ ستم

روزنِ حبس ہوا دار مِرے بعد ہوا

Monday, 26 September 2022

وہم ہے یا وہ ابھی موجود ہے

 وہم ہے یا وہ ابھی موجود ہے

چُھو کے دیکھو کیا کوئی موجود ہے

سب لُٹا دوں گا شبِ تاریک میں

مجھ میں جتنی روشنی موجود ہے

داستاں میں لطف باقی ہے ابھی

اس میں اب تک اک پری موجود ہے

Sunday, 25 September 2022

زخموں کو سبز پات سے ڈھکنا پڑا مجھے

 زخموں کو سبز پات سے ڈھکنا پڑا مجھے

تھوڑا سا پھر نمک بھی چھڑکنا پڑا مجھے

ہجرت سے پنچھیوں کی اداسی تھی پیڑ کو

سائے میں اس کے جا کے چہکنا پڑا مجھے

اندر تھی جس قدر بھی اماوس کی تیرگی

باہر سے چاند بن کے چمکنا پڑا مجھے

Saturday, 24 September 2022

تمام عمر کٹی سیڑھیاں بنانے میں

 تمام عمر کٹی سیڑھیاں بنانے میں

فلک سے آنے میں، واپس فلک پہ جانے میں

ہمیشہ لکھتے ہیں مِل کر ہی پیار کے نغمے

مگر جِھجکتے ہیں اک ساتھ ان کو گانے میں

مسافروں نے تو مشکیزے کر لیے خالی

کسی شجر میں لگی آگ کو بُجھانے میں

Monday, 25 July 2022

سوچتے سوچتے بپھر جانا

 سوچتے سوچتے بپھر جانا

اور پھر ٹوٹ کر بکھر جانا

مُدتوں رہنا اچھے لوگوں میں

اور کچھ دیر تک سُدھر جانا

دیر تک سوچنا نہ جانے کا

آخری وقت پر مگر جانا