Showing posts with label اسحاق وردگ. Show all posts
Showing posts with label اسحاق وردگ. Show all posts

Saturday, 8 March 2025

نکل سکتے نہیں اب منظروں سے

نکل سکتے نہیں اب منظروں سے

نکل تو آئے ہیں اپنے گھروں سے

سبھی کردار ساکت ہو گئے ہیں

کہانی چل رہی ہے منتروں سے

ہماری خاک ہی میں مسئلہ ہے

شکایت کچھ نہیں کوزہ گروں سے

Saturday, 9 April 2022

ذات کا راز کھو چکا ہوں میں

 ذات کا راز کھو چکا ہوں میں

گمشدہ چیز ہو چکا ہوں میں

فائدہ کچھ نہیں پلٹنے کا

وقت پہلے ہی کھو چکا ہوں میں

سامنے آئینے کے آتے ہی

خاک سے عکس ہو چکا ہوں میں

Friday, 4 February 2022

خواب جیسے مر گیا تھا خواب میں

 خواب جیسے مر گیا تھا خواب میں

رات میں پھر ڈر گیا تھا خواب میں

جاگنے کے بعد بالکل ٹھیک تھا

زخم دل کا بھر گیا تھا خواب میں

بند کھڑکی بھی بہت حیران ہے

کس طرف منظر گیا تھا خواب میں

Wednesday, 6 October 2021

دوسرا کنارا بھی بے وفا کنارا ہے

 دوسرا کنارا بھی بے وفا کنارا ہے

اب تو ڈوب جانا ہی آخری سہارا ہے

میں اتر نہیں سکتا دوسرے کنارے پر

دوسرا کنارا تو دوسرا کنارا ہے

مجھ پہ اب محبت میں زہر پینا واجب ہے

میں نے دل نہیں ہارا حوصلہ بھی ہارا ہے

Sunday, 19 September 2021

میں خالی گھر میں بھی تنہا نہیں تھا

 میں خالی گھر میں بھی تنہا نہیں تھا

کہ جب تک آئینہ ٹوٹا نہیں تھا

سرِ آئینہ وہ چہرہ نہیں تھا

مگر یہ بات میں سمجھا نہیں تھا

جہاں سیراب ہوتی تھی مِری روح

وہ صحرا تھا کوئی دریا نہیں تھا

Friday, 4 June 2021

اس پار کا ہو کے بھی میں اس پار گیا ہوں

 اِس پار کا ہو کے بھی میں اُس پار گیا ہوں

اک اِسم کی برکت سے کئی بار گیا ہوں

خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی

دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں

تھامے ہوئے اک روشنی کے ہاتھ کو ہر شب

پانی پہ قدم رکھ کے میں اُس پار گیا ہوں

Thursday, 27 May 2021

جانب شہر بیابان کہاں جاتا ہے

 جانبِ شہرِ بیابان کہاں جاتا ہے؟

اے مِرے یار پریشان کہاں جاتا یے

حالتِ وجد میں معلوم نہیں ہے سائیں

آپ بتلائیں مِرا دھیان کہاں جاتا ہے

جانے کس سمت سے یادوں کی ہوا آتی ہے

اور پھر درد کا طوفان کہاں جاتا ہے

Tuesday, 25 May 2021

ہم خاک بسر گرد سفر ڈھونڈ رہے ہیں

 ہم خاک بسر گردِ سفر ڈھونڈ رہے ہیں

اور لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر ڈھونڈ رہے ہیں

دیوانوں کے مانند مِرے شہر کے سب لوگ

دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں

اب شام ہے تو شہر میں گاؤں کے پرندے

رہنے کے لیے کوئی شجر ڈھونڈ رہے ہیں

Monday, 24 May 2021

رائیگانی کا عارضہ ہے مجھے

 رائیگانی کا عارضہ ہے مجھے

زندگی ایک حادثہ ہے مجھے

اس خرابے سے کب گِلہ ہے مجھے

اپنا ہونا ہی مسئلہ ہے مجھے

ضمنی کردار ہوں کہانی کا

اپنی تقدیر کا پتا ہے مجھے

ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے

 ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے

جس میں دہشتگرد کرونا بنتا ہے

جب اس کی تصویر صدا میں ڈھل جائے

پھر تو میرا کچھ تو کہو نا بنتا ہے

نو صدیوں کا قصہ کہتا ہے ہم سے

جنگوں میں پشتون کھلونا بنتا ہے

Saturday, 27 February 2021

وقت کو خاص گزر گاہ سمجھنے والے

 وقت کو خاص گزر گاہ سمجھنے والے

آج موجود نہیں آہ، سمجھنے والے

دل میں تعبیر کی خواہش ہی نہیں رکھتے ہیں

ہم تِرے خواب کو درگاہ سمجھنے والے

ان زمینوں کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں

آسمانوں کو گزر گاہ سمجھنے والے