نکل سکتے نہیں اب منظروں سے
نکل تو آئے ہیں اپنے گھروں سے
سبھی کردار ساکت ہو گئے ہیں
کہانی چل رہی ہے منتروں سے
ہماری خاک ہی میں مسئلہ ہے
شکایت کچھ نہیں کوزہ گروں سے
نکل سکتے نہیں اب منظروں سے
نکل تو آئے ہیں اپنے گھروں سے
سبھی کردار ساکت ہو گئے ہیں
کہانی چل رہی ہے منتروں سے
ہماری خاک ہی میں مسئلہ ہے
شکایت کچھ نہیں کوزہ گروں سے
ذات کا راز کھو چکا ہوں میں
گمشدہ چیز ہو چکا ہوں میں
فائدہ کچھ نہیں پلٹنے کا
وقت پہلے ہی کھو چکا ہوں میں
سامنے آئینے کے آتے ہی
خاک سے عکس ہو چکا ہوں میں
خواب جیسے مر گیا تھا خواب میں
رات میں پھر ڈر گیا تھا خواب میں
جاگنے کے بعد بالکل ٹھیک تھا
زخم دل کا بھر گیا تھا خواب میں
بند کھڑکی بھی بہت حیران ہے
کس طرف منظر گیا تھا خواب میں
دوسرا کنارا بھی بے وفا کنارا ہے
اب تو ڈوب جانا ہی آخری سہارا ہے
میں اتر نہیں سکتا دوسرے کنارے پر
دوسرا کنارا تو دوسرا کنارا ہے
مجھ پہ اب محبت میں زہر پینا واجب ہے
میں نے دل نہیں ہارا حوصلہ بھی ہارا ہے
میں خالی گھر میں بھی تنہا نہیں تھا
کہ جب تک آئینہ ٹوٹا نہیں تھا
سرِ آئینہ وہ چہرہ نہیں تھا
مگر یہ بات میں سمجھا نہیں تھا
جہاں سیراب ہوتی تھی مِری روح
وہ صحرا تھا کوئی دریا نہیں تھا
اِس پار کا ہو کے بھی میں اُس پار گیا ہوں
اک اِسم کی برکت سے کئی بار گیا ہوں
خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں
تھامے ہوئے اک روشنی کے ہاتھ کو ہر شب
پانی پہ قدم رکھ کے میں اُس پار گیا ہوں
جانبِ شہرِ بیابان کہاں جاتا ہے؟
اے مِرے یار پریشان کہاں جاتا یے
حالتِ وجد میں معلوم نہیں ہے سائیں
آپ بتلائیں مِرا دھیان کہاں جاتا ہے
جانے کس سمت سے یادوں کی ہوا آتی ہے
اور پھر درد کا طوفان کہاں جاتا ہے
ہم خاک بسر گردِ سفر ڈھونڈ رہے ہیں
اور لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر ڈھونڈ رہے ہیں
دیوانوں کے مانند مِرے شہر کے سب لوگ
دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں
اب شام ہے تو شہر میں گاؤں کے پرندے
رہنے کے لیے کوئی شجر ڈھونڈ رہے ہیں
رائیگانی کا عارضہ ہے مجھے
زندگی ایک حادثہ ہے مجھے
اس خرابے سے کب گِلہ ہے مجھے
اپنا ہونا ہی مسئلہ ہے مجھے
ضمنی کردار ہوں کہانی کا
اپنی تقدیر کا پتا ہے مجھے
ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے
جس میں دہشتگرد کرونا بنتا ہے
جب اس کی تصویر صدا میں ڈھل جائے
پھر تو میرا کچھ تو کہو نا بنتا ہے
نو صدیوں کا قصہ کہتا ہے ہم سے
جنگوں میں پشتون کھلونا بنتا ہے
وقت کو خاص گزر گاہ سمجھنے والے
آج موجود نہیں آہ، سمجھنے والے
دل میں تعبیر کی خواہش ہی نہیں رکھتے ہیں
ہم تِرے خواب کو درگاہ سمجھنے والے
ان زمینوں کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں
آسمانوں کو گزر گاہ سمجھنے والے