Wednesday, 6 October 2021

دوسرا کنارا بھی بے وفا کنارا ہے

 دوسرا کنارا بھی بے وفا کنارا ہے

اب تو ڈوب جانا ہی آخری سہارا ہے

میں اتر نہیں سکتا دوسرے کنارے پر

دوسرا کنارا تو دوسرا کنارا ہے

مجھ پہ اب محبت میں زہر پینا واجب ہے

میں نے دل نہیں ہارا حوصلہ بھی ہارا ہے

آسماں کی وسعت میں جانے اب کہاں ہو گا

وہ جو میری قسمت کا بے خبر ستارا ہے

وقت کی عدالت کا فیصلہ یہی ہے اب

میں بھی اک خسارا ہوں تو بھی اک خسارا ہے

دوسرے کنارے پر یہ خبر ہوئی مجھ کو

وہ تو اس کہانی میں تیسرا کنارا ہے

میں نے تیرے حصے کے رتجگے بھی کاٹے ہیں

میں نے تیرے حصے کا قرض بھی اتارا ہے


اسحاق وردگ

No comments:

Post a Comment