Wednesday, 6 October 2021

جدائی نے تری بے چین سا پھر رات بھر رکھا

 جدائی نے تِری بے چین سا پھر رات بھر رکھا

خیالوں میں تِری بانہوں کے تکیے پہ جو سر رکھا

بہت تنہا سی لگتی تھی تِرے جانے سے محفل تو

میں بھی یہ سوچ کر اٹھا کیا ہے اب ادھر رکھا

مکاں تو بن گیا لیکن نہ جو تم رہ سکے اس میں

ابھی تک اس لیے اس کا نہیں ہے نام گھر رکھا

محبت کرنے والوں کا یہی شیوہ یہی مسلک

دیارِ عشق میں سب نے نگوں اپنا ہی سر رکھا

یوں جاؤتم نہ محفل میں خدارا ہوکےبےپردہ

کہیں گے شعر زلفوں پہ جو خالی تم نے سر رکھا

ٹھہرتا ہی نہیں کوئی جو آتا ہے گزرتا ہے

زمانے بھر نے دل میرا ہے مثلِ رہ گزر رکھا

چلے آؤ کہ تنہا ہوں دل و جاں سب ہی خالی ہیں

نہیں خالی مکانوں میں کسی کا اب ہے ڈر رکھا

شکایت یہ نہیں اس وقت کیوں بچھڑاہے وہ مجھ سے

گِلہ یہ ہے کہ سب باتوں سے مجھ کو بے خبر رکھا

تو پھر کیا تیر سینے سے نظر کے پار ہوتے ہیں

نہیں کچھ بھی ہے دنیا میں خدا نے بے ہنر رکھا

ستمگر آزما خود کو کہ دیکھوں حوصلہ تیرا

اِدھر رکھا ہے دل میرا اُدھر میرا جگر رکھا

اگر ہو یہ اجازت پھر تو پوچھوں باغباں سے میں

کہ کیوں میرا ہی گلشن پھر سے تم نے بے ثمر رکھا

جو کرتا ہوں پلٹ کر پھر وہ میرے پاس آتی ہیں

دعاؤں میں نہیں میری کوئی بھی تو اثر رکھا

بہت ہے پر خطر یہ عشق میں سمجھائے دیتا ہوں

بہت پچھتاؤ گے تشنہ! قدم تم نے اگر رکھا 


عامر شہزاد تشنہ

No comments:

Post a Comment