میرے لوگو
تم ہی تو غم ہمارا ہو
تمہارے واسطے ہی تو
سرہانوں سے اٹھا کے سر
صلیبوں پر سجائے تھے
ہم ہی تھے جو
شبستانوں سے چن کے پھول
ویرانوں میں آئے تھے
زمینیں بانجھ تھیں جب
خشک سالی کا موسم تھا
ہمارے خون کی بارش گری تھی
اشک کے دریا بہائے تھے
تمہاری کشتیوں کو تا میسر ایک کنارہ ہو
ہم ہی نے اپنی لاشوں سے
جہاں تک تم پہنچ پاؤ
وہاں تک پل بنائے تھے
کناروں پر جب اترو تم
تمہارے ہاتھ نہ غیروں کے ہاتھ آئیں
اسی دردِ محبت میں
خوشی سے بازوؤں میں
آہنی حلقے سجائے تھے
وہ زنجیروں میں گھٹتے
بے لہو اجسام
کمہلائے ہوئے چہرے
سب اپنی ہی کہانی تھی
اسی پر بس نہیں بلکہ
اکھڑتی سانس سے پہلے
تمہاری عزتوں کے نوحے لکھنے کے بجائے
کود کے رن میں
رجز آخر بھلا کس نے گائے تھے
ہماری ہی جوانی تھی
جو تم پورے نہ کر پائے
غنیم سنگدل سے وہ معرکوں کے سبھی وعدے
تمہاری عسرت و بے چارگی کی لاج رکھنے کو
کسی نے تو نبھائے تھے
وہ کس کی جاں فشانی تھی
تمہارے سر سے نہ چادر
کبھی تقدیس کی اترے
اسی خاطر میری بہنو
ستم کیشوں کے بڑھتے سیل کے آگے
یہ سینے تان کے پشتے بنائے تھے
وہ کس کی پاسبانی تھی
تمہاری ہی حفاظت کے لیے بھائیو
اکھڑوا کے یہ ناخن خندقیں جو کھود پائے تھے
کوئی تو تھے یہ سب جن کی محبت کی نشانی تھی
میرے لوگو تم ہی تو غم ہمارا ہو
میرے لوگو
ہمیں دیکھو، ہمیں سمجھو، ہمیں جانو
ہمیں جانچو، ہمیں پرکھو، ہمیں مانو
ہم ہی ہیں وہ ابھی تک سوچتے ہیں جو
کہ اپنے دین و ناموس کی خاطر
تمہاری ان جبینوں سے پسینہ جس جگہ ٹپکے
وہاں پر خون ہمارا ہو
مگر اتنا تو کہنے دو
اگر سننا گوارا ہو
مرے لوگو
تمہیں بھی تو غم ہمارا ہو
احسن عزیز مرزا
No comments:
Post a Comment