Wednesday, 6 October 2021

میرے لوگو تم ہی تو غم ہمارا ہو

 میرے لوگو

تم ہی تو غم ہمارا ہو


تمہارے واسطے ہی تو

سرہانوں سے اٹھا کے سر 

صلیبوں پر سجائے تھے

ہم ہی تھے جو 

شبستانوں سے چن کے پھول

ویرانوں میں آئے تھے

زمینیں بانجھ تھیں جب

خشک سالی کا موسم تھا

ہمارے خون کی بارش گری تھی

اشک کے دریا بہائے تھے

تمہاری کشتیوں کو تا میسر ایک کنارہ ہو

ہم ہی نے اپنی لاشوں سے

جہاں تک تم پہنچ پاؤ

وہاں تک پل بنائے تھے

کناروں پر جب اترو تم

تمہارے ہاتھ نہ غیروں کے ہاتھ آئیں

اسی دردِ محبت میں

خوشی سے بازوؤں میں

آہنی حلقے سجائے تھے

وہ زنجیروں میں گھٹتے

بے لہو اجسام

کمہلائے ہوئے چہرے

سب اپنی ہی کہانی تھی

اسی پر بس نہیں بلکہ

اکھڑتی سانس سے پہلے

تمہاری عزتوں کے نوحے لکھنے کے بجائے

کود کے رن میں

رجز آخر بھلا کس نے گائے تھے

ہماری ہی جوانی تھی

جو تم پورے نہ کر پائے

غنیم سنگدل سے وہ معرکوں کے سبھی وعدے


تمہاری عسرت و بے چارگی کی لاج رکھنے کو

کسی نے تو نبھائے تھے

وہ کس کی جاں فشانی تھی 

تمہارے سر سے نہ چادر

کبھی تقدیس کی اترے

اسی خاطر میری بہنو

ستم کیشوں کے بڑھتے سیل کے آگے

یہ سینے تان کے پشتے بنائے تھے

وہ کس کی پاسبانی تھی

تمہاری ہی حفاظت کے لیے بھائیو

اکھڑوا کے یہ ناخن خندقیں جو کھود پائے تھے

کوئی تو تھے یہ سب جن کی محبت کی نشانی تھی

میرے لوگو تم ہی تو غم ہمارا ہو

میرے لوگو

ہمیں دیکھو، ہمیں سمجھو، ہمیں جانو

ہمیں جانچو، ہمیں پرکھو، ہمیں مانو

ہم ہی ہیں وہ ابھی تک سوچتے ہیں جو

کہ اپنے دین و ناموس کی خاطر

تمہاری ان جبینوں سے پسینہ جس جگہ ٹپکے

وہاں پر خون ہمارا ہو

مگر اتنا تو کہنے دو

اگر سننا گوارا ہو

مرے لوگو

تمہیں بھی تو غم ہمارا ہو


احسن عزیز مرزا

No comments:

Post a Comment