Wednesday, 6 October 2021

سر تسلیم مرا خم نہیں ہونے دیتا

سر تسلیم مِرا خم نہیں ہونے دیتا

وہ مِرا رب مجھے برہم نہیں ہونے دیتا

غیب سے آج بھی کرتا ہے حفاظت میری

سر نگوں وہ مِرا پرچم نہیں ہونے دیتا

جب بھی ملتا ہے مجھے زخم نیا دیتا ہے

وہ ملاقات کو مرہم نہیں ہونے دیتا

شعر کہنے کا وہ انداز ملا ہے مجھ کو

جوش محفل مجھے مدھم نہیں ہونے دیتا

اب تو دربار میں بھی ذکر ہمارا ہے صہیب

کیا عجب شخص ہے سر خم نہیں ہونے دیتا


صہیب فاروقی

No comments:

Post a Comment