ڈُوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں
آج کی رات گُزر جائے گی تنہائی میں
شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تِری
ہو کمی کچھ نہ تِری انجمن آرائی میں
بے سبب ہوگا مِرے ساتھ میں رُسوا وہ بھی
نام اس کا بھی ہے شامل میری رُسوائی میں
ڈُوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں
آج کی رات گُزر جائے گی تنہائی میں
شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تِری
ہو کمی کچھ نہ تِری انجمن آرائی میں
بے سبب ہوگا مِرے ساتھ میں رُسوا وہ بھی
نام اس کا بھی ہے شامل میری رُسوائی میں
جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا
زندگی بھر کے لیے آنکھوں میں پانی دے گیا
سنتے سنتے داستاں سو جائیں گے سب چارہ گر
ختم جو ہو گی نہیں ایسی کہانی دے گیا
سر مرے سینے پہ اس نے جب رکھا ہے زندگی
اس طرح دریائے دل کو وہ روانی دے گیا
اب تو جینے کی کوئی آس نہیں
تیری یادیں بھی میرے پاس نہیں
سیکھ لیتے ہیں وہ فن الفت
دیر میں عشق کا کلاس نہیں
دیکھ لوں تیری نرگسی آنکھیں
اور کوئی بھی مجھ کو پیاس نہیں
دور کیا شمع کبھی رہتی ہے پروانے سے
آپ کیوں روٹھ گئے اپنے ہی دیوانے سے
جس طرح مے چھلک اٹھے کبھی پیمانے سے
آپ یوں دور ہوئے اپنے ہی مستانے سے
پیار کی آگ میں جلنے کا مزا ہے کیسا
کیا بتائے گا کوئی پوچھیے پروانے سے
کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں
کسی کے عشق میں کیا کیا مقام آتے ہیں
ہمارے پینے کا انداز بھی نرالا ہے
ہمارے واسطے آنکھوں سے جام آتے ہیں
جسے بھلائے ہوئے ایک عمر بیت گئی
اسی کے آج بھی مجھ کو سلام آتے ہیں