Showing posts with label نظر کانپوری. Show all posts
Showing posts with label نظر کانپوری. Show all posts

Tuesday, 8 September 2026

ڈوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

 ڈُوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

آج کی رات گُزر جائے گی تنہائی میں

شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تِری

ہو کمی کچھ نہ تِری انجمن آرائی میں

بے سبب ہوگا مِرے ساتھ میں رُسوا وہ بھی

نام اس کا بھی ہے شامل میری رُسوائی میں

Sunday, 15 March 2026

جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا

 جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا

زندگی بھر کے لیے آنکھوں میں پانی دے گیا

سنتے سنتے داستاں سو جائیں گے سب چارہ گر

ختم جو ہو گی نہیں ایسی کہانی دے گیا

سر مرے سینے پہ اس نے جب رکھا ہے زندگی

اس طرح دریائے دل کو وہ روانی دے گیا

Monday, 11 November 2024

اب تو جینے کی کوئی آس نہیں

 اب تو جینے کی کوئی آس نہیں

تیری یادیں بھی میرے پاس نہیں

سیکھ لیتے ہیں وہ فن الفت

دیر میں عشق کا کلاس نہیں

دیکھ لوں تیری نرگسی آنکھیں

اور کوئی بھی مجھ کو پیاس نہیں

Sunday, 9 June 2024

دور کیا شمع کبھی رہتی ہے پروانے سے

 دور کیا شمع کبھی رہتی ہے پروانے سے

آپ کیوں روٹھ گئے اپنے ہی دیوانے سے

جس طرح مے چھلک اٹھے کبھی پیمانے سے

آپ یوں دور ہوئے اپنے ہی مستانے سے

پیار کی آگ میں جلنے کا مزا ہے کیسا

کیا بتائے گا کوئی پوچھیے پروانے سے

Wednesday, 14 July 2021

کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں

 کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں

کسی کے عشق میں کیا کیا مقام آتے ہیں

ہمارے پینے کا انداز بھی نرالا ہے

ہمارے واسطے آنکھوں سے جام آتے ہیں

جسے بھلائے ہوئے ایک عمر بیت گئی

اسی کے آج بھی مجھ کو سلام آتے ہیں