Wednesday, 14 July 2021

کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں

 کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں

کسی کے عشق میں کیا کیا مقام آتے ہیں

ہمارے پینے کا انداز بھی نرالا ہے

ہمارے واسطے آنکھوں سے جام آتے ہیں

جسے بھلائے ہوئے ایک عمر بیت گئی

اسی کے آج بھی مجھ کو سلام آتے ہیں

کسی کی یاد کے لمحے ہمارے دل کی طرف

عبادتوں کے لیے صبح و شام آتے ہیں

اندھیرا چھایا تو سائے نے ساتھ چھوڑ دیا

سنا ہے وقت پہ اپنے ہی کام آتے ہیں

جو رنگ اُبھرتے ہیں الفت کی داستاں میں نظر

فقط انہیں کے مثالوں میں نام آتے ہیں


نظر کانپوری

No comments:

Post a Comment