آواز
وہ تو واقف نہ تھی الفاظ کے تقدس سے
معنی و حرف کی حُرمت سے بھی آگاہ نہ تھی
اس سے شکایت کیسی
اپنے ہی عہدِ محبت کا جسے پاس نہیں
کوئی احساس نہیں
اس سے گِلہ کیا معنی
اس سے پہلے کہ ہر اک لفظ تازیانہ بنے
حرفِ شکوہ سے کوئی اور ہی افسانہ بنے
اپنے خاموش تکلّم کا بھرم رکھ لینا
کچھ مت کہنا
بس چُپ رہنا
محمود احمد غزنوی
No comments:
Post a Comment