اعلان کر رہا ہوں کہ ہوشیار، اک طرف
معصوم اک طرف ہوں، ریا کار اک طرف
دنیا میں کربلا سے بڑا واقعہ نہیں
حُبدار اک طرف ہوئے غدّار اک طرف
یہ کس نے آ کے صحنِ حرم میں قدم رکھا
در اک طرف کو ہو گیا، دیوار اک طرف
اعلان کر رہا ہوں کہ ہوشیار، اک طرف
معصوم اک طرف ہوں، ریا کار اک طرف
دنیا میں کربلا سے بڑا واقعہ نہیں
حُبدار اک طرف ہوئے غدّار اک طرف
یہ کس نے آ کے صحنِ حرم میں قدم رکھا
در اک طرف کو ہو گیا، دیوار اک طرف
ٹھہر ٹھہر کے خدارا کلام کیجیۓ ناں
اداس شب کا بھی کچھ احترام کیجیۓ ناں
سنا ہے آپ کی آنکھیں ہیں بادشاہ آنکھیں
نظر اٹھائیے؛ ہم کو غلام کیجیۓ ناں
یہ چند اہلِ محبت کا پیر و مرشد ہے
یہ آ گیا ہے تو اٹھ کر سلام کیجیۓ ناں
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
جو اہلِ بیت کا دل سے غلام ہونے لگے
اسی کا دونوں جہانوں میں نام ہونے لگے
حسینُ مِنی و انا من الحسین" ہے یار"
میں نعت کہنے لگوں تو سلام ہونے لگے
حسینؑ دوشِ محمدﷺ پہ جب سوار ہوئے
طویل سجدے ہوئے، کم قیام ہونے لگے
جنہیں خیال میں لائیں تو جگمگائے سخن
اُنہیں کے نام سے آباد ہے سرائے سخن
ہمارے شعر میں کچھ خواب سانس لیتے ہیں
ہمارے شعر نہیں ہیں فقط برائے سخن
کوئی تو ہو جسے آنکھوں سے ہمکلام کروں
ہیں چند باتیں مِرے پاس ماورائے سخن
تیری خوشبو سے مہک جاتی ہیں سوچیں اس کی
جو تِری موج میں آ جائے ہے، موجیں اس کی
اس کی آنکھوں میں چمکتا ہُوا دیکھو مِرا دل
میرے سینے میں دھڑکتی ہوئی آنکھیں اس کی
کڑو ے لمحوں کا اثر دل سے مٹا دیتی ہیں
یہ فضاؤں میں شہد گھولتی باتیں اس کی
ہر بات پہ شبہات بھی اچھے نہیں ہوتے
اور اتنے سوالات بھی اچھے نہیں ہوتے
اتنا ہی نہیں، لوگ زبانوں کے بُرے ہیں
کچھ کے تو خیالات بھی اچھے نہیں ہوتے
محظوظ بھی ہوتے ہیں کسی حال میں پیارے
ہر وقت کےخدشات بھی اچھے نہیں ہوتے
پھول سے ہاتھ ہیں، التجا ہے مگر مر نہ جائیں کہیں تتلیاں چھوڑئیے
جسم نازک ہیں اِن کے بکھر جائیں گے بے زبانوں سے یوں مستیاں چھوڑئیے
میں محبت میں بِکتا رہا ہوں سدا، کوئی میری غرض تھی نہ مجبوریاں
آپ کے ہر اشارے پہ ناچوں گا میں، آپ ایسی غلط فہمیاں چھوڑئیے
خوبصورت یہ آنکھیں بہت ہیں مگر اِن میں کس خوف سے خواب رکھے نہیں
حوصلہ کیجئیے اور شیشے کی اِن مرتبانوں میں اب مچھلیاں چھوڑئیے
تُو ہوا کے ہاتھ پہ چاہتوں کا دِیا جلانے کی ضد نہ کر
یہ اُداس لوگوں کا شہر ہے یہاں مسکرانے کی ضد نہ کر
میں ہوں دوستوں کا ڈسا ہُوا، مِرا غم ہے حد سے بڑھا ہُوا
میں شکستہ گھر کی مثال ہوں مِرے پاس آنے کی ضد نہ کر
میں تِری غزل تو نہیں ہوں نا، کہ ہر ایک لب پہ سجا رہوں
میں تو ایک مصرعۂ درد ہوں مجھے گنگنانے کی ضد نہ کر
کسی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
وہ دل سے چاہے جو میرا ہونا تو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
جو شام ڈھلتے ہی میری آنکھوں میں جِھلملاتا ہے چاند بن کر
وہ اپنے سینے میں میری دھڑکن سمو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
جو اپنے زخموں کو میری نظروں سے دُور رکھنے کا سوچتا ہے
وہ میری پلکوں کی نرم چھاؤں میں سو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
میں بھی آدمی ہوں زمین کا، وہ بھی آدمی ہے خدا نہیں
بڑا صوفیانہ سا عشق ہے، اُسے پاس رہ کے چُھوا نہیں
مِرے چارہ گر! مِری زندگی پہ تُو مہرباں ہے بہت مگر
مجھے اس گُنہ کی سزا نہ دے جو گناہ میں نے کِیا نہیں
میں بکھر گیا ہوں تو کیا ہُوا، چلو آپ کا تو بَھلا ہوا
نہ نظر چُرائیے با خدا، مجھے آپ سے تو گِلہ نہیں
دل توڑتا ہے اور بکھرنے نہیں دیتا
بے رحم مسیحا مجھے مرنے نہیں دیتا
اے جانِ تمنا! تیری زلفوں کا تصور
کاندھوں سے سیہ شال اُترنے نہیں دیتا
چاندی سی وہ رنگت، نہ ستاروں سی وہ آنکھیں
یہ ہجر خد و خال سنورنے نہیں دیتا
دلوں میں خشک سالی ہو گئی ہے
محبت بھی سوالی ہو گئی ہے
کسی کے ہاتھ پیلے کیا ہوئے ہیں
مِری تقدیر کالی ہو گئی ہے
مزاجاً بھی قلندر ہو گیا ہوں
طبیعت بھی دھمالی ہو گئی ہے
سالگرہ
آج کا دن کتنا پیارا ہے
دل دھرتی پر پھول کِھلے ہیں
خوشیوں کی رِم جِھم برکھا ہے
لمحہ لمحہ بھیگ رہا ہے
سچی خواہش کی خوشبو سے
دھڑکن دھڑکن اک نغمہ ہے
جس کی آنکھوں میں بھی اشکوں کی روانی ہو گی
در حقیقت وہ محبت کی کہانی ہو گی
وہ جو بچپن میں ہی لگتا ہے کوئی جادوگر
کیا ستم ڈھائے گا جب اس پہ جوانی ہو گی
کل مجھے کہنے لگی اس کے خطوں کی خوشبو
اس کی ہر یاد تمہیں دل سے بھلانی ہو گی
اداس موسم میں مسکرانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
جدائی کے روگ کو چھپانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
وہ فصلِ گل تو اب ڈھل چکی ہے، چِتا محبت کی جل چکی ہے
وفا کی میت کو اب اٹھانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں
وہ پیار کے پل وہ چاند راتیں، وہ دل نشیں پھول جیسی باتیں
حسیں یادوں کو بھول جانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں