Showing posts with label شہباز نیر. Show all posts
Showing posts with label شہباز نیر. Show all posts

Saturday, 8 March 2025

اعلان کر رہا ہوں کہ ہوشیار اک طرف

اعلان کر رہا ہوں کہ ہوشیار، اک طرف

معصوم اک طرف ہوں، ریا کار اک طرف

دنیا میں کربلا سے بڑا واقعہ نہیں 

حُبدار اک طرف ہوئے غدّار اک طرف

یہ کس نے آ کے صحنِ حرم میں قدم رکھا

در اک طرف کو ہو گیا، دیوار اک طرف 

Tuesday, 18 October 2022

ٹھہر ٹھہر کے خدارا کلام کیجئے ناں

 ٹھہر ٹھہر کے خدارا کلام کیجیۓ ناں 

اداس شب کا بھی کچھ احترام کیجیۓ ناں 

سنا ہے آپ کی آنکھیں ہیں بادشاہ آنکھیں 

نظر اٹھائیے؛ ہم کو غلام کیجیۓ ناں 

یہ چند اہلِ محبت کا پیر و مرشد ہے 

یہ آ گیا ہے تو اٹھ کر سلام کیجیۓ ناں 

Tuesday, 9 August 2022

جو اہل بیت کا دل سے غلام ہونے لگے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین


جو اہلِ بیت کا دل سے غلام ہونے لگے

اسی کا دونوں جہانوں میں نام ہونے لگے

حسینُ مِنی و انا من الحسین" ہے یار"

میں نعت کہنے لگوں تو سلام ہونے لگے

حسینؑ دوشِ محمدﷺ پہ جب سوار ہوئے

طویل سجدے ہوئے، کم قیام ہونے لگے

Friday, 4 February 2022

جنہیں خیال میں لائیں تو جگمگائے سخن

 جنہیں خیال میں لائیں تو جگمگائے سخن

اُنہیں کے نام سے آباد ہے سرائے سخن

ہمارے شعر میں کچھ خواب سانس لیتے ہیں

ہمارے شعر نہیں ہیں فقط برائے سخن

کوئی تو ہو جسے آنکھوں سے ہمکلام کروں

ہیں چند باتیں مِرے پاس ماورائے سخن

Sunday, 26 September 2021

تیری خوشبو سے مہک جاتی ہیں سوچیں اس کی

  تیری خوشبو سے مہک جاتی ہیں سوچیں اس کی

جو تِری موج میں آ جائے ہے، موجیں اس کی

اس کی آنکھوں میں چمکتا ہُوا دیکھو مِرا دل

میرے سینے میں دھڑکتی ہوئی آنکھیں اس کی

کڑو ے لمحوں کا اثر دل سے مٹا دیتی ہیں

یہ فضاؤں میں شہد گھولتی باتیں اس کی

Sunday, 8 August 2021

ہر بات پہ شبہات بھی اچھے نہیں ہوتے

 ہر بات پہ شبہات بھی اچھے نہیں ہوتے

اور اتنے سوالات بھی اچھے نہیں ہوتے

اتنا ہی نہیں، لوگ زبانوں کے بُرے ہیں

کچھ کے تو خیالات بھی اچھے نہیں ہوتے

محظوظ بھی ہوتے ہیں کسی حال میں پیارے

ہر وقت کےخدشات بھی اچھے نہیں ہوتے

Tuesday, 3 August 2021

پھول سے ہاتھ ہیں التجا ہے مگر مر نہ جائیں کہیں

 پھول سے ہاتھ ہیں، التجا ہے مگر مر نہ جائیں کہیں تتلیاں چھوڑئیے

جسم نازک ہیں اِن کے بکھر جائیں گے بے زبانوں سے یوں مستیاں چھوڑئیے

میں محبت میں بِکتا رہا ہوں سدا، کوئی میری غرض تھی نہ مجبوریاں

آپ کے ہر اشارے پہ ناچوں گا میں، آپ ایسی غلط فہمیاں چھوڑئیے

خوبصورت یہ آنکھیں بہت ہیں مگر اِن میں کس خوف سے خواب رکھے نہیں

حوصلہ کیجئیے اور شیشے کی اِن مرتبانوں میں اب مچھلیاں چھوڑئیے

Monday, 2 August 2021

تو ہوا کے ہاتھ پہ چاہتوں کا دیا جلانے کی ضد نہ کر

 تُو ہوا کے ہاتھ پہ چاہتوں کا دِیا جلانے کی ضد نہ کر

یہ اُداس لوگوں کا شہر ہے یہاں مسکرانے کی ضد نہ کر

میں ہوں دوستوں کا ڈسا ہُوا، مِرا غم ہے حد سے بڑھا ہُوا

میں شکستہ گھر کی مثال ہوں مِرے پاس آنے کی ضد نہ کر

میں تِری غزل تو نہیں ہوں نا، کہ ہر ایک لب پہ سجا رہوں

میں تو ایک مصرعۂ درد ہوں مجھے گنگنانے کی ضد نہ کر

Friday, 30 July 2021

کسی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے دھو بھی سکتا ہے

 کسی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

وہ دل سے چاہے جو میرا ہونا تو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

جو شام ڈھلتے ہی میری آنکھوں میں جِھلملاتا ہے چاند بن کر

وہ اپنے سینے میں میری دھڑکن سمو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

جو اپنے زخموں کو میری نظروں سے دُور رکھنے کا سوچتا ہے

وہ میری پلکوں کی نرم چھاؤں میں سو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

Thursday, 29 July 2021

میں بھی آدمی ہوں زمین کا وہ بھی آدمی ہے خدا نہیں

 میں بھی آدمی ہوں زمین کا، وہ بھی آدمی ہے خدا نہیں

بڑا صوفیانہ سا عشق ہے، اُسے پاس رہ کے چُھوا نہیں

مِرے چارہ گر! مِری زندگی پہ تُو مہرباں ہے بہت مگر

مجھے اس گُنہ کی سزا نہ دے جو گناہ میں نے کِیا نہیں

میں بکھر گیا ہوں تو کیا ہُوا، چلو آپ کا تو بَھلا ہوا

نہ نظر چُرائیے با خدا، مجھے آپ سے تو گِلہ نہیں

Wednesday, 28 July 2021

دل توڑتا ہے اور بکھرنے نہیں دیتا

 دل توڑتا ہے اور بکھرنے نہیں دیتا

بے رحم مسیحا مجھے مرنے نہیں دیتا

اے جانِ تمنا! تیری زلفوں کا تصور

کاندھوں سے سیہ شال اُترنے نہیں دیتا

چاندی سی وہ رنگت، نہ ستاروں سی وہ آنکھیں

یہ ہجر خد و خال سنورنے نہیں دیتا

Tuesday, 27 July 2021

دلوں میں خشک سالی ہو گئی ہے

 دلوں میں خشک سالی ہو گئی ہے

محبت بھی سوالی ہو گئی ہے

کسی کے ہاتھ پیلے کیا ہوئے ہیں

مِری تقدیر کالی ہو گئی ہے

مزاجاً بھی قلندر ہو گیا ہوں

طبیعت بھی دھمالی ہو گئی ہے

Monday, 26 July 2021

سالگرہ آج کا دن کتنا پیارا ہے

 سالگرہ


آج کا دن کتنا پیارا ہے

دل دھرتی پر پھول کِھلے ہیں

خوشیوں کی رِم جِھم برکھا ہے

لمحہ لمحہ بھیگ رہا ہے

سچی خواہش کی خوشبو سے

دھڑکن دھڑکن اک نغمہ ہے

جس کی آنکھوں میں بھی اشکوں کی روانی ہو گی

 جس کی آنکھوں میں بھی اشکوں کی روانی ہو گی

در حقیقت وہ محبت کی کہانی ہو گی

وہ جو بچپن میں ہی لگتا ہے کوئی جادوگر

کیا ستم ڈھائے گا جب اس پہ جوانی ہو گی

کل مجھے کہنے لگی اس کے خطوں کی خوشبو

اس کی ہر یاد تمہیں دل سے بھلانی ہو گی

اداس موسم میں مسکرانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں

 اداس موسم میں مسکرانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں

جدائی کے روگ کو چھپانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں

وہ فصلِ گل تو اب ڈھل چکی ہے، چِتا محبت کی جل چکی ہے

وفا کی میت کو اب اٹھانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں

وہ پیار کے پل وہ چاند راتیں، وہ دل نشیں پھول جیسی باتیں

حسیں یادوں کو بھول جانا نہ تیرے بس میں نہ میرے بس میں