Friday, 4 February 2022

جنہیں خیال میں لائیں تو جگمگائے سخن

 جنہیں خیال میں لائیں تو جگمگائے سخن

اُنہیں کے نام سے آباد ہے سرائے سخن

ہمارے شعر میں کچھ خواب سانس لیتے ہیں

ہمارے شعر نہیں ہیں فقط برائے سخن

کوئی تو ہو جسے آنکھوں سے ہمکلام کروں

ہیں چند باتیں مِرے پاس ماورائے سخن

سخن وروں پہ خدا کی قسم وہ دھبہ ہے

جو جھوٹے نام کی خاطر خرید لائے سخن

ہم اپنی بات کے پکے ہیں قول کے سچے

گر اس کو شک ہے تو آئے اور آزمائے سخن

پتہ چلا کہ انہیں شاعری سے رغبت ہے

سو ہم بھی کاسۂ لب میں اٹھا کے لائے سخن

سخنوری نے ہمیں معتبر کِیا ہُوا ہے

ہمارا فخر ہے شہباز نسخہ ہائے سخن


شہباز نیر

No comments:

Post a Comment