کہاں یہ دل سے دل کا سلسلہ ہے
محبت میرا ذاتی مسئلہ ہے
بھٹکتی پھر رہی ہوں اپنے اندر
جدائی کا پہاڑی سلسلہ ہے
یہی ہے فرق مجھ میں اور تجھ میں
مِرے دل میں تِرے لب پر گلہ ہے
سنہری ڈال سی بچھڑی تھی تم سے
جسے اب مل رہے ہو کوئلہ ہے
قطاروں میں سفر کرتی رہے گی
کہ عورت چیونٹیوں کا قافلہ ہے
صدف زبیری
No comments:
Post a Comment