Friday, 4 February 2022

کہاں یہ دل سے دل کا سلسلہ ہے

 کہاں یہ دل سے دل کا سلسلہ ہے

محبت میرا ذاتی مسئلہ ہے

بھٹکتی پھر رہی ہوں اپنے اندر

جدائی کا پہاڑی سلسلہ ہے

یہی ہے فرق مجھ میں اور تجھ میں

مِرے دل میں تِرے لب پر گلہ ہے

سنہری ڈال سی بچھڑی تھی تم سے

جسے اب مل رہے ہو کوئلہ ہے

قطاروں میں سفر کرتی رہے گی

کہ عورت چیونٹیوں کا قافلہ ہے


صدف زبیری

No comments:

Post a Comment