وہ دن بھی تھے
وہ دن بھی تھے
ہوا رنگوں کی خوشبو سے ہمارا نام لکھتی تھی
دعا آنگن میں آتی تھی تو ہر سُو روشنی سی پھیل جاتی تھی
بدن کے منطقے میں خواب کے موسم سدا شاداب رہتے تھے
گلابوں کی لطافت سوچ پر آ کر اترتی تو
یہاں پر لفظ کھلتے تھے
وہ دن بھی تھے
کہ ہم ہر شام اک مہتاب بن کر یوں دمکتے تھے
یہ صحرا چاندنی کو گنگناتا تھا
ہمارے گیت کی لے پر
سمندر جھوم جاتا تھا
وہ دن بھی تھے
یہ دن بھی ہیں
ہوا میں راکھ اڑتی ہے یہاں اک بے نشانی کی
فضا پر راٸیگانی کے اندھیرے راج کرتے ہیں
کچھ ایسے گمشدہ ہیں کہ
خود اپنے نام کے حرفوں کو ہم ترتیب دینا بھول جاتے ہیں
ازہر ندیم
No comments:
Post a Comment