کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے
تیرے در سے جو پلٹ آئے کدھر جاتا ہے
منظر عام پہ آتا ہے تو ڈر جاتا ہے
اشک میرا مِرے اندر ہی بکھر جاتا ہے
آج وہ زخم کی تاثیر سے تر جاتا ہے
وہ جو کہتا تھا میاں زخم ہے بھر جاتا ہے
کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے
تیرے در سے جو پلٹ آئے کدھر جاتا ہے
منظر عام پہ آتا ہے تو ڈر جاتا ہے
اشک میرا مِرے اندر ہی بکھر جاتا ہے
آج وہ زخم کی تاثیر سے تر جاتا ہے
وہ جو کہتا تھا میاں زخم ہے بھر جاتا ہے
جسارت محبت کی کر کے تو دیکھو
کبھی معجزے اس جگر کے تو دیکھو
سمندر سے بر تر ہیں خشکی کے گرداب
ذرا ساحلوں پر اتر کے تو دیکھو
ازل سے ہی منظر کے رنگوں میں گم ہو
کبھی رنگ حُسنِ نطر کے تو دیکھو
تمہاری یادیں کسی مسافر
کے ساتھ صحرا میں چل رہی ہیں
مگر مسافت کی اس تھکن سے
بہت ہی رنجور ہوگئی ہیں
کہ اپنے گھٹنوں پہ بیٹھ کر ہی
وہ ریت کے بے شمار ذروں کو
دشت کی بد دعا نہ لو لوگو
پیڑ کہتا ہے کیا سنو لوگو
زندگی اک حسین منظر ہے
ہر گھڑی دیکھتے رہو لوگو
میرے ہاتھوں نے چُھو لیا ہے اسے
میرے ہاتھوں کو چُوم لو لوگو
کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے
تیرے در سے جو پلٹ آئے کدھر جاتا ہے
منظرِ عام پہ آتا ہے تو ڈر جاتا ہے
اشک میرا مِرے اندر ہی بکھر جاتا ہے
کیا ہوا چھوڑ کہ ہر بار اگر جاتا ہے
دو گھڑی مجھ سے مگر بات تو کر جاتا ہے
تمام لفظ، محبت کے باب، میرے لیے
کسی نے کھول دی دل کی کتاب میرے لیے
یہ زندگی تو فقط خواہشوں کا صحرا ہے
قدم قدم پہ بچھے ہیں سراب میرے لیے
بس ایک شخص نے آنکھوں کو نور نور کیا
بس ایک شخص نہیں دستیاب میرے لیے
بھری محفل میں رُسوا ہو گئے تھے
ہمی گھر گھر کا چرچا ہو گئے تھے
یہ کس نے پیٹھ پر خنجر چلایا
سبھی دُشمن تو پسپا ہو گئے تھے
کسی موجِ صبا کے منتظر تھے
چمن کے پھول تنہا ہو گئے تھے