Showing posts with label فیضان قادر. Show all posts
Showing posts with label فیضان قادر. Show all posts

Sunday, 28 September 2025

کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے

 کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے

تیرے در سے جو پلٹ آئے کدھر جاتا ہے

منظر عام پہ آتا ہے تو ڈر جاتا ہے

اشک میرا مِرے اندر ہی بکھر جاتا ہے

آج وہ زخم کی تاثیر سے تر جاتا ہے

وہ جو کہتا تھا میاں زخم ہے بھر جاتا ہے

Sunday, 8 December 2024

جسارت محبت کی کر کے تو دیکھو

 جسارت محبت کی کر کے تو دیکھو

کبھی معجزے اس جگر کے تو دیکھو

سمندر سے بر تر ہیں خشکی کے گرداب

ذرا ساحلوں پر اتر کے تو دیکھو

ازل سے ہی منظر کے رنگوں میں گم ہو

کبھی رنگ حُسنِ نطر کے تو دیکھو

Thursday, 2 December 2021

ابھی محبت مری نہیں ہے

 تمہاری یادیں کسی مسافر

کے ساتھ صحرا میں چل رہی ہیں

مگر مسافت کی اس تھکن سے

بہت ہی رنجور ہوگئی ہیں

کہ اپنے گھٹنوں پہ بیٹھ کر ہی

وہ ریت کے بے شمار ذروں کو

Saturday, 27 November 2021

دشت کی بد دعا نہ لو لوگو

 دشت کی بد دعا نہ لو لوگو

پیڑ کہتا ہے کیا سنو لوگو

زندگی اک حسین منظر ہے

ہر گھڑی دیکھتے رہو لوگو

میرے ہاتھوں نے چُھو لیا ہے اسے

میرے ہاتھوں کو چُوم لو لوگو

Wednesday, 24 November 2021

کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے

 کس جگہ جاتا ہے اور کون سے در جاتا ہے

تیرے در سے جو پلٹ آئے کدھر جاتا ہے

منظرِ عام پہ آتا ہے تو ڈر جاتا ہے

اشک میرا مِرے اندر ہی بکھر جاتا ہے

کیا ہوا چھوڑ کہ ہر بار اگر جاتا ہے

دو گھڑی مجھ سے مگر بات تو کر جاتا ہے

Saturday, 18 September 2021

تمام لفظ محبت کے باب میرے لیے

 تمام لفظ، محبت کے باب، میرے لیے

کسی نے کھول دی دل کی کتاب میرے لیے

یہ زندگی تو فقط خواہشوں کا صحرا ہے

قدم قدم پہ بچھے ہیں سراب میرے لیے

بس ایک شخص نے آنکھوں کو نور نور کیا

بس ایک شخص نہیں دستیاب میرے لیے

Thursday, 24 June 2021

بھری محفل میں رسوا ہو گئے تھے

 بھری محفل میں رُسوا ہو گئے تھے

ہمی گھر گھر کا چرچا ہو گئے تھے

یہ کس نے پیٹھ پر خنجر چلایا

سبھی دُشمن تو پسپا ہو گئے تھے

کسی موجِ صبا کے منتظر تھے

چمن کے پھول تنہا ہو گئے تھے