تمہاری یادیں کسی مسافر
کے ساتھ صحرا میں چل رہی ہیں
مگر مسافت کی اس تھکن سے
بہت ہی رنجور ہوگئی ہیں
کہ اپنے گھٹنوں پہ بیٹھ کر ہی
وہ ریت کے بے شمار ذروں کو
جلتے اشکوں سے ڈس رہی ہیں
انہیں سرابِ وصال کا بھی گماں نہیں ہے
کہ ہجر کا اک طویل طوفاں ہے بس نظر میں
کہ اتنے میں ہی مِری محبت کی تتلیاں ہیں
جو آ کے اشکوں کو چن رہی ہیں
تمہاری یادوں سے وہ مسلسل یہ کہہ رہی ہیں
ہمارا دامن ابھی نہ چھوڑو
ابھی محبت مری نہیں ہے
ہمارا دامن ابھی نہ چھوڑو
ابھی محبت مری نہیں ہے
فیضان قادر
No comments:
Post a Comment