Showing posts with label ریاض حسین. Show all posts
Showing posts with label ریاض حسین. Show all posts

Friday, 7 June 2024

در پر کھڑی ہیں میری دعائیں کرم حضور

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


در پر کھڑی ہیں میری دعائیں، کرم حضورﷺ

لایا ہوں ارضِ جاں کی فضائیں، کرم حضور

پلکوں پہ منتظر ہیں ستارے لیے ہوئے

اشکِ رواں کی کاہکشائیں، کرم حضورﷺ

اللہ کے بعد آپﷺ کے در پر کھڑے ہیں ہم

طیبہ کو چھوڑ کر کہاں جائیں، کرم حضور

Saturday, 1 June 2024

عجز کی آخری سرحد پہ کھڑا ہے بندہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عجز کی آخری سرحد پہ کھڑا ہے بندہ

عشقِ معبودِ حقیقی کی رما کر دھونی

ایک گلزار سرِ بزمِ نگارِ رحمت

ایک تمثیل کہ کردار ہیں جس کے زندہ

اُس کے تذکار سے روشن ہے ازل کا سینہ

اُس کے افکار سے مہکا ہے ابد کا گلشن

Thursday, 21 December 2023

الفاظ محترم ہیں کہ نعت نبی کے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


الفاظ محترم ہیں کہ نعتِ نبیﷺ کے ہیں

اوراق اور قلم مِرے سب روشنی کے ہیں

اشکوں سے حرف حرف کا چہرہ دُھلا ہوا

انداز مختلف مِری نامہ بری کے ہیں

ہر سمت چاند اور ستاروں کا ہے ہجوم

منظر کمال آپؐ کی روشن گلی کے ہیں

Thursday, 7 December 2023

ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدار مدینہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ

ہر روز میں پڑھ لیتا ہوں اخبارِ مدینہ

کیا دلکش و دلبر ہے گلی کوچوں کا منظر

کیا جنتِ ارضی ہے چمن زارِ مدینہ

وہ آبِ خُنک، ٹھنڈی کھجوریں، لبِ تشنہ

کیا خوب سے بھی خوب ہے افطارِ مدینہ

Tuesday, 1 August 2023

آقائے مدینہ ہی لجپال ہمارے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آقائے مدینہﷺ ہی لجپال ہمارے ہیں

سرکارؐ کے منگتوں میں سب چاند ستارے ہیں

توصیف کی رم جھم ہیں آیاتِ خداوندی

مِدحت کی لیے ٹھنڈک قرآن کے پارے ہیں

کل شب مِرے آنگن میں طیبہ کی ہوا اتری

ساون کی گھٹائیں ہیں، رحمت کے اشارے ہیں

Wednesday, 26 July 2023

ترے ذکر پر نوازش کے سحاب امڈ کے برسیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تِرے ذکر پر نوازش کے سحاب اُمڈ کے برسیں

مِری آنکھ کے کٹورے تِراﷺ نام لوں تو چھلکیں

میں فقیر بن کے گلیوں میں تِریﷺ صدا لگاؤں

مِری زندگی کے یہ دن تِرےﷺ آستاں پہ گزریں

مِری بے قرار آنکھیں کبھی لیں بلائیں اُنﷺ کی

کبھی بام و در سے لپٹیں کبھی جالیوں کو چومیں

Thursday, 13 July 2023

کیا گزرے گی کیا بیتے گی جل جانے کا عالم کیا ہو گا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کیا گزرے گی، کیا بیتے گی، جل جانے کا عالم کیا ہو گا

انوارِ حرم کی رِم جھم میں پروانے کا عالم کیا ہو گا

زنجیر سرہانے رکھ کر میں اس سوچ میں ڈُوبا رہتا ہوں

جب شہرِ مدینہ آئے گا،۔ دیوانے کا عالم کیا ہو گا

کس طرح گدائے طیبہ کو عشاق سلامی دیتے ہیں

اُس شہر خُنک کی گلیوں میں مستانے کا عالم کیا ہو گا

Tuesday, 11 July 2023

دل نشین و دلکشا ہے آپ کا شہر کرم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل نشین و دلکشا ہے آپﷺ کا شہرِ کرم

دل نواز و دلربا ہے آپﷺ کا شہرِ کرم

شہرِ مکہ آپﷺ کا، شہرِ مدینہ آپﷺ کا

میرے مولا کی رضا ہے آپﷺ کا شہرِ کرم

آپﷺ کی تخلیق، تخلیقِ دو عالم کا جواز

مرکزِ ارض و سما ہے آپﷺ کا شہرِ کرم

Monday, 10 July 2023

تابندگی ملے مجھے رخشندگی ملے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تابندگی ملے مجھے رخشندگی ملے

سرکارﷺ کی گلی کی خنک روشنی ملے

جس میں بسی ہوئی ہیں درودوں کی خوشبوئیں

مولا! درِ حضورﷺ کی وہ دلکشی ملے

طیبہ کی آرزو میں کھڑا جھومتا رہوں

عشقِ رسولِ پاکﷺ میں وارفتگی ملے

Saturday, 13 May 2023

یا رب مری قسمت میں ہو سرخاب مدینہ

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


یا رب مِری قسمت میں ہو سرخابِ مدینہ

دے تشنہ زمینوں کو خنک آبِ مدینہ

برسے لبِ اظہار پہ توصیف کا ریشم

اور چرخِ ثناء پر رہے مہتابِ مدینہ

وہؐ صرفِ نظر کرتے ہیں ہر میری خطا سے

سجدوں کا بھرم رکھتی ہے محرابِ مدینہ

Friday, 12 May 2023

محراب عقیدت میں گہر بار ہیں آنکھیں

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


محرابِ عقیدت میں گہر بار ہیں آنکھیں

یہ کس نے کہا مفلس و نادار ہیں آنکھیں

اتنی بھی خبر تم کو ستارو نہیں اب تک

کس خاکِ منور کی طلبگار ہیں آنکھیں

دامن ہے تہی، پھر بھی، سرِ بزمِ تمنا

ہر عکسِ محبت کی خریدار ہیں آنکھیں

Thursday, 11 May 2023

ورق ورق پہ ہے گلرنگ ساعتوں کا ہجوم

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ورق ورق پہ ہے گل رنگ ساعتوں کا ہجوم

ہر ایک لفظ میں شامل ہے دھڑکنوں کا ہجوم

ازل سے تاجِ مدینہ کی میں رعایا ہوں

اسی لیے مِرے سر پر ہے شفقتوں کا ہجوم

صبا سے، راستہ طیبہ کا، پوچھنے والو

رواں مدینے کی جانب ہے جگنوؤں کا ہجوم

Wednesday, 10 May 2023

میرے نبی کا ہے رخ زیبا بھی روشنی

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


میرے نبیؐ کا ہے رخِ زیبا بھی روشنی

سرکارؐ کا ہے اسوۂ حسنہ بھی روشنی

سورج اُگے ہوئے ہیں حروفِ سپاس میں

نعتِ نبیﷺ کا مصرعِ تنہا بھی روشنی

توصیفِ مصطفیٰؐ کی کتابِ سخن ہے نور

لوحِ ثناء کے لفظ کا نقطہ بھی روشنی

Thursday, 10 November 2022

ظہور اول ظہور آخر ظہور شمس و قمر سے پہلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ظہورِ اول، ظہورِ آخر، ظہورِ شمس و قمر سے پہلے

انہیؐ کا چرچا تھا لامکاں میں ہجومِ شام و سحر سے پہلے

مِرے نبیؐ کو بنا کے رحمت، خدا نے بھیجا ہے کل جہاں میں

کرم کی کلیاں چٹک رہی ہیں، چمن میں شاخِ کرم سے پہلے

یہ کہکشاں تو غبارِ رہ ہے، حضورﷺ کی رفعتیں نہ پوچھو

نصیب چمکے تھے عرش والو، ورودِ خیرالبشرﷺ سے پہلے

Tuesday, 20 September 2022

کیا دیکھا اگر تو نے مدینہ نہیں دیکھا

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یوں ابر کہیں اور برستا نہیں دیکھا

کیا دیکھا اگر تو نے مدینہ نہیں دیکھا

میں بن کے قلم رقص میں رہتا ہوں ورق پر

کیا جشنِ ولادتﷺ کا مہینہ نہیں دیکھا

جو مسجدِ نبوی کی ادب گہ میں ہے جاری

دنیا نے کسی بردے کا سجدہ نہیں دیکھا

Sunday, 18 September 2022

مرنے کے بعد بھی دے عشق نبی کا موسم

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مرنے کے بعد بھی دے عشقِ نبیؐ کا موسم

میری لحد میں اُترے یہ روشنی کا موسم

دل کی لگی کا روگی ہوں لے چلو مدینے

آئے گا راس مجھ کو شہرِ نبیﷺ کا موسم

میں نذر کیا کروں گا دامن تہی ہے میرا

کب تک مجھے ڈسے گا یہ مفلسی کا موسم

Tuesday, 25 January 2022

آپ کی کون و مکاں میں جلوہ فرمائی کہ بس

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آپؐ کی کون و مکاں میں جلوہ فرمائی کہ بس

ہر قدم پر سرمدی پھولوں کی رعنائی کہ بس

اپنے محبوبِ مکرّمﷺ کو خدائے پاک نے

خِلعتِ انوارِ عظمت ایسی پہنائی کہ بس

واسطہ دے کر نبیؐ کے نام کا، مانگی دعا

آسماں نے بارشِ رحمت وہ برسائی کہ بس

گرم آنسو میں نے رکھے تھے صبا کے ہاتھ پر

وہ مدینے سے مجھے ٹھنڈی ہوا آئی کہ بس

ایک دیوانہ جسے پتھر ہی پڑتے تھے یہاں

وہ مدینے میں ملی اس کو پذیرائی کہ بس

پیش کر پایا نہ تھا اُنؐ کا وسیلہ میں ابھی

ہر تمنا میرے دل کی ایسے بر آئی کہ بس

میری نظریں گنبدِ خضرا سے ہم آغوش ہیں

یوں مسلسل رقص میں ہے میری بینائی کہ بس

میرے سامانِ سفر کو روک رکھا ہے وہیں

ذرے ذرے سے ہے میری وہ شناسائی کہ بس

میرے اللہ نے مِری سب لغزشوں کے باوجود

نعت کے صدقے میں دی ایسی پذیرائی کہ بس

خُلد میں بھی یاد آتا ہے مجھے شہرِ حضورؐ

اس قدر ہوں اُنؐ کی گلیوں کا تمنائی کہ بس

اہلِ محشر نے کہا مقطع مکرر ہو ریاض

روزِ محشر بھی ہوئی وہ عزت افزائی کہ بس


ریاض حسین چودھری

Monday, 6 December 2021

عک در رسول مری چشم تر میں ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


عکس درِ رسولؐ مری چشم تر میں ہے

آباد آئینوں کا سمندر نظر میں ہے

قدموں کی دھول سر پہ سجانے کے واسطے

خوشبو چراغ لے کے ازل سے سفر میں ہے

شبنم، دھنک، چنار، ہوا، چاندنی، سحاب

ہر حُسنِ کائنات تِریﷺ رہگزر میں ہے

Sunday, 21 November 2021

مدحت نگار میں بھی ہوں خیرالانام کا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مدحت نگار میں بھی ہوں خیرالانامؐ کا

میں نے کِیا ہے کام یہی ایک کام کا

پوشاکِ علم میرے قلم کو ملے حضورؐ

اور زمزمہ عطا ہو درود و سلام کا

آندھی ہوائے شر کی چلی ہے مِرے رسولؐ

خدشہ بہت ہے آدمی کے انہدام کا