عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
در پر کھڑی ہیں میری دعائیں، کرم حضورﷺ
لایا ہوں ارضِ جاں کی فضائیں، کرم حضور
پلکوں پہ منتظر ہیں ستارے لیے ہوئے
اشکِ رواں کی کاہکشائیں، کرم حضورﷺ
اللہ کے بعد آپﷺ کے در پر کھڑے ہیں ہم
طیبہ کو چھوڑ کر کہاں جائیں، کرم حضور
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
در پر کھڑی ہیں میری دعائیں، کرم حضورﷺ
لایا ہوں ارضِ جاں کی فضائیں، کرم حضور
پلکوں پہ منتظر ہیں ستارے لیے ہوئے
اشکِ رواں کی کاہکشائیں، کرم حضورﷺ
اللہ کے بعد آپﷺ کے در پر کھڑے ہیں ہم
طیبہ کو چھوڑ کر کہاں جائیں، کرم حضور
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عجز کی آخری سرحد پہ کھڑا ہے بندہ
عشقِ معبودِ حقیقی کی رما کر دھونی
ایک گلزار سرِ بزمِ نگارِ رحمت
ایک تمثیل کہ کردار ہیں جس کے زندہ
اُس کے تذکار سے روشن ہے ازل کا سینہ
اُس کے افکار سے مہکا ہے ابد کا گلشن
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الفاظ محترم ہیں کہ نعتِ نبیﷺ کے ہیں
اوراق اور قلم مِرے سب روشنی کے ہیں
اشکوں سے حرف حرف کا چہرہ دُھلا ہوا
انداز مختلف مِری نامہ بری کے ہیں
ہر سمت چاند اور ستاروں کا ہے ہجوم
منظر کمال آپؐ کی روشن گلی کے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ
ہر روز میں پڑھ لیتا ہوں اخبارِ مدینہ
کیا دلکش و دلبر ہے گلی کوچوں کا منظر
کیا جنتِ ارضی ہے چمن زارِ مدینہ
وہ آبِ خُنک، ٹھنڈی کھجوریں، لبِ تشنہ
کیا خوب سے بھی خوب ہے افطارِ مدینہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آقائے مدینہﷺ ہی لجپال ہمارے ہیں
سرکارؐ کے منگتوں میں سب چاند ستارے ہیں
توصیف کی رم جھم ہیں آیاتِ خداوندی
مِدحت کی لیے ٹھنڈک قرآن کے پارے ہیں
کل شب مِرے آنگن میں طیبہ کی ہوا اتری
ساون کی گھٹائیں ہیں، رحمت کے اشارے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تِرے ذکر پر نوازش کے سحاب اُمڈ کے برسیں
مِری آنکھ کے کٹورے تِراﷺ نام لوں تو چھلکیں
میں فقیر بن کے گلیوں میں تِریﷺ صدا لگاؤں
مِری زندگی کے یہ دن تِرےﷺ آستاں پہ گزریں
مِری بے قرار آنکھیں کبھی لیں بلائیں اُنﷺ کی
کبھی بام و در سے لپٹیں کبھی جالیوں کو چومیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیا گزرے گی، کیا بیتے گی، جل جانے کا عالم کیا ہو گا
انوارِ حرم کی رِم جھم میں پروانے کا عالم کیا ہو گا
زنجیر سرہانے رکھ کر میں اس سوچ میں ڈُوبا رہتا ہوں
جب شہرِ مدینہ آئے گا،۔ دیوانے کا عالم کیا ہو گا
کس طرح گدائے طیبہ کو عشاق سلامی دیتے ہیں
اُس شہر خُنک کی گلیوں میں مستانے کا عالم کیا ہو گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل نشین و دلکشا ہے آپﷺ کا شہرِ کرم
دل نواز و دلربا ہے آپﷺ کا شہرِ کرم
شہرِ مکہ آپﷺ کا، شہرِ مدینہ آپﷺ کا
میرے مولا کی رضا ہے آپﷺ کا شہرِ کرم
آپﷺ کی تخلیق، تخلیقِ دو عالم کا جواز
مرکزِ ارض و سما ہے آپﷺ کا شہرِ کرم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تابندگی ملے مجھے رخشندگی ملے
سرکارﷺ کی گلی کی خنک روشنی ملے
جس میں بسی ہوئی ہیں درودوں کی خوشبوئیں
مولا! درِ حضورﷺ کی وہ دلکشی ملے
طیبہ کی آرزو میں کھڑا جھومتا رہوں
عشقِ رسولِ پاکﷺ میں وارفتگی ملے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
یا رب مِری قسمت میں ہو سرخابِ مدینہ
دے تشنہ زمینوں کو خنک آبِ مدینہ
برسے لبِ اظہار پہ توصیف کا ریشم
اور چرخِ ثناء پر رہے مہتابِ مدینہ
وہؐ صرفِ نظر کرتے ہیں ہر میری خطا سے
سجدوں کا بھرم رکھتی ہے محرابِ مدینہ
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
محرابِ عقیدت میں گہر بار ہیں آنکھیں
یہ کس نے کہا مفلس و نادار ہیں آنکھیں
اتنی بھی خبر تم کو ستارو نہیں اب تک
کس خاکِ منور کی طلبگار ہیں آنکھیں
دامن ہے تہی، پھر بھی، سرِ بزمِ تمنا
ہر عکسِ محبت کی خریدار ہیں آنکھیں
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ورق ورق پہ ہے گل رنگ ساعتوں کا ہجوم
ہر ایک لفظ میں شامل ہے دھڑکنوں کا ہجوم
ازل سے تاجِ مدینہ کی میں رعایا ہوں
اسی لیے مِرے سر پر ہے شفقتوں کا ہجوم
صبا سے، راستہ طیبہ کا، پوچھنے والو
رواں مدینے کی جانب ہے جگنوؤں کا ہجوم
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
میرے نبیؐ کا ہے رخِ زیبا بھی روشنی
سرکارؐ کا ہے اسوۂ حسنہ بھی روشنی
سورج اُگے ہوئے ہیں حروفِ سپاس میں
نعتِ نبیﷺ کا مصرعِ تنہا بھی روشنی
توصیفِ مصطفیٰؐ کی کتابِ سخن ہے نور
لوحِ ثناء کے لفظ کا نقطہ بھی روشنی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ظہورِ اول، ظہورِ آخر، ظہورِ شمس و قمر سے پہلے
انہیؐ کا چرچا تھا لامکاں میں ہجومِ شام و سحر سے پہلے
مِرے نبیؐ کو بنا کے رحمت، خدا نے بھیجا ہے کل جہاں میں
کرم کی کلیاں چٹک رہی ہیں، چمن میں شاخِ کرم سے پہلے
یہ کہکشاں تو غبارِ رہ ہے، حضورﷺ کی رفعتیں نہ پوچھو
نصیب چمکے تھے عرش والو، ورودِ خیرالبشرﷺ سے پہلے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یوں ابر کہیں اور برستا نہیں دیکھا
کیا دیکھا اگر تو نے مدینہ نہیں دیکھا
میں بن کے قلم رقص میں رہتا ہوں ورق پر
کیا جشنِ ولادتﷺ کا مہینہ نہیں دیکھا
جو مسجدِ نبوی کی ادب گہ میں ہے جاری
دنیا نے کسی بردے کا سجدہ نہیں دیکھا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مرنے کے بعد بھی دے عشقِ نبیؐ کا موسم
میری لحد میں اُترے یہ روشنی کا موسم
دل کی لگی کا روگی ہوں لے چلو مدینے
آئے گا راس مجھ کو شہرِ نبیﷺ کا موسم
میں نذر کیا کروں گا دامن تہی ہے میرا
کب تک مجھے ڈسے گا یہ مفلسی کا موسم
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آپؐ کی کون و مکاں میں جلوہ فرمائی کہ بس
ہر قدم پر سرمدی پھولوں کی رعنائی کہ بس
اپنے محبوبِ مکرّمﷺ کو خدائے پاک نے
خِلعتِ انوارِ عظمت ایسی پہنائی کہ بس
واسطہ دے کر نبیؐ کے نام کا، مانگی دعا
آسماں نے بارشِ رحمت وہ برسائی کہ بس
گرم آنسو میں نے رکھے تھے صبا کے ہاتھ پر
وہ مدینے سے مجھے ٹھنڈی ہوا آئی کہ بس
ایک دیوانہ جسے پتھر ہی پڑتے تھے یہاں
وہ مدینے میں ملی اس کو پذیرائی کہ بس
پیش کر پایا نہ تھا اُنؐ کا وسیلہ میں ابھی
ہر تمنا میرے دل کی ایسے بر آئی کہ بس
میری نظریں گنبدِ خضرا سے ہم آغوش ہیں
یوں مسلسل رقص میں ہے میری بینائی کہ بس
میرے سامانِ سفر کو روک رکھا ہے وہیں
ذرے ذرے سے ہے میری وہ شناسائی کہ بس
میرے اللہ نے مِری سب لغزشوں کے باوجود
نعت کے صدقے میں دی ایسی پذیرائی کہ بس
خُلد میں بھی یاد آتا ہے مجھے شہرِ حضورؐ
اس قدر ہوں اُنؐ کی گلیوں کا تمنائی کہ بس
اہلِ محشر نے کہا مقطع مکرر ہو ریاض
روزِ محشر بھی ہوئی وہ عزت افزائی کہ بس
ریاض حسین چودھری
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عکس درِ رسولؐ مری چشم تر میں ہے
آباد آئینوں کا سمندر نظر میں ہے
قدموں کی دھول سر پہ سجانے کے واسطے
خوشبو چراغ لے کے ازل سے سفر میں ہے
شبنم، دھنک، چنار، ہوا، چاندنی، سحاب
ہر حُسنِ کائنات تِریﷺ رہگزر میں ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مدحت نگار میں بھی ہوں خیرالانامؐ کا
میں نے کِیا ہے کام یہی ایک کام کا
پوشاکِ علم میرے قلم کو ملے حضورؐ
اور زمزمہ عطا ہو درود و سلام کا
آندھی ہوائے شر کی چلی ہے مِرے رسولؐ
خدشہ بہت ہے آدمی کے انہدام کا