عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تابندگی ملے مجھے رخشندگی ملے
سرکارﷺ کی گلی کی خنک روشنی ملے
جس میں بسی ہوئی ہیں درودوں کی خوشبوئیں
مولا! درِ حضورﷺ کی وہ دلکشی ملے
طیبہ کی آرزو میں کھڑا جھومتا رہوں
عشقِ رسولِ پاکﷺ میں وارفتگی ملے
ہر لمحہ جس کا اُنؐ کی غلامی میں ہو بسر
یا رب! ہَے التجا وہ مجھے زندگی ملے
اللہ سے مغفرت کی طلب سجدہ ریز ہو
جب زندگی کی سانس مجھے آخری ملے
تیری تمام نعمتوں کا شکر ہے، مگر
ان سب سے قبل، گرمیٔ حُبِ نبیؐ ملے
کوتاہیاں معاف ہوں ساری مِرے خدا
اٹھوں جو گہری نیند سے کھیتی ہری ملے
یارب! لحد کے گوشۂ مدحت میں حشر تک
نعتِ حضورﷺ لکھنے کی آسودگی ملے
برزخ کی وسعتوں کے جلال و جمال میں
آقاﷺ کی جاں نثاری کی بارہ دری ملے
افراد میرے گھر کے مرے ساتھ ساتھ ہوں
رحمت، حضورؐ، حشر میں بھی آپؐ کی ملے
انگلی اٹھی تو رقصِ مسلسل میں آ گیا
اُس چاند کی ریاض مجھے چاندنی ملے
ریاض حسین چودھری
No comments:
Post a Comment