Showing posts with label عاصم بخشی. Show all posts
Showing posts with label عاصم بخشی. Show all posts

Wednesday, 1 May 2024

میں نے ایک لوہے کا چاند نگل لیا

 میں نے ایک لوہے کا چاند نگل لیا


میں نے لوہے کا ایک چاند نگل لیا

وہ اسے کیل کہتےہیں

میں صنعتی اخراج، یہ نوکری کی ٹھکرائی ہوئی عرضیاں نگل چکا ہوں

مشین پر جھکے ہوئے نوجوان وقت سے پہلے مر جاتے ہیں

میں  شوروغوغا اور تہی دستی نگل چکا ہوں

Tuesday, 27 April 2021

مرا گمان ہے شاید یہ واقعہ ہو جائے

 مِرا گمان ہے شاید یہ واقعہ ہو جائے

کہ شام مجھ میں ڈھلے اور سب فنا ہو جائے

ہو بات اس سے کچھ ایسے کہ وقت ساکت ہو

کلام اپنا تکلم سے ماورا ہو جائے

بچا کے آنکھ میں خود اپنی کھوج میں نکلوں

مِرے وجود میں ایک چور راستہ ہو جائے

Sunday, 25 April 2021

جنوں کے قافلوں کی بے نشاں منزل کا کیا کہنا

 جنوں کے قافلوں کی بے نشاں منزل کا کیا کہنا

اسیرانِ خِرد کے حال میں شامل کا کیا کہنا

جمالِ مستئ غرقاب میں دم خم تو ہے لیکن

کسی چشمِ فنا کی خواہشِ ساحل کا کیا کہنا

درونِ اژدحامِ مردماں گر خود سے ملنا ہو

تو ایسی اتفاقی منفرد محفل کا کیا کہنا

Saturday, 24 April 2021

رات بھر شعلۂ جاں خوب بڑھایا جائے

 رات بھر شعلۂ جاں خوب بڑھایا جائے

پھر دمِ صبح ہی خوابوں کو جلایا جائے

جب قضا لکھ ہی چکی سلسلۂ راہِ فنا

کیوں نہ پھر وقتِ اجل جلد بلایا جائے

ساعتِ شام، غمِ ہجر کا سناٹا ہے

شہرِ اوہام کو سپنوں سے سجایا جائے

Wednesday, 7 April 2021

کیا تمہیں یاد ہے انسان ہوا کرتے تھے

 کیا تمہیں یاد ہے انسان ہوا کرتے تھے

یہ بیاباں کبھی گنجان ہوا کرتے تھے

وقت تھم جاتا تھا دھڑکن کی صدا سنتے ہوئے

جب تِرے آنے کے امکان ہوا کرتے تھے

سانس رک جاتی تھی، لہجے میں کسک ہوتی تھی

جس سمے کوچ کے اعلان ہوا کرتے تھے

Tuesday, 6 April 2021

جواب مانگتا تھا میں سوال دے دیا گیا

 جواب مانگتا تھا میں سوال دے دیا گیا

تلاش در تلاش کا وبال دے دیا گیا

عطا ہوا تھا جب یقیں کی سبز وادیوں میں گھر

تو کیوں درِ گماں پسِ خیال دے دیا گیا

مِری زمینِ چشمِ نم میں خواب بو دئیے گئے

مجھے خمیرِ شوقِ لا زوال دے دیا گیا