میں نے ایک لوہے کا چاند نگل لیا
میں نے لوہے کا ایک چاند نگل لیا
وہ اسے کیل کہتےہیں
میں صنعتی اخراج، یہ نوکری کی ٹھکرائی ہوئی عرضیاں نگل چکا ہوں
مشین پر جھکے ہوئے نوجوان وقت سے پہلے مر جاتے ہیں
میں شوروغوغا اور تہی دستی نگل چکا ہوں
میں نے ایک لوہے کا چاند نگل لیا
میں نے لوہے کا ایک چاند نگل لیا
وہ اسے کیل کہتےہیں
میں صنعتی اخراج، یہ نوکری کی ٹھکرائی ہوئی عرضیاں نگل چکا ہوں
مشین پر جھکے ہوئے نوجوان وقت سے پہلے مر جاتے ہیں
میں شوروغوغا اور تہی دستی نگل چکا ہوں
مِرا گمان ہے شاید یہ واقعہ ہو جائے
کہ شام مجھ میں ڈھلے اور سب فنا ہو جائے
ہو بات اس سے کچھ ایسے کہ وقت ساکت ہو
کلام اپنا تکلم سے ماورا ہو جائے
بچا کے آنکھ میں خود اپنی کھوج میں نکلوں
مِرے وجود میں ایک چور راستہ ہو جائے
جنوں کے قافلوں کی بے نشاں منزل کا کیا کہنا
اسیرانِ خِرد کے حال میں شامل کا کیا کہنا
جمالِ مستئ غرقاب میں دم خم تو ہے لیکن
کسی چشمِ فنا کی خواہشِ ساحل کا کیا کہنا
درونِ اژدحامِ مردماں گر خود سے ملنا ہو
تو ایسی اتفاقی منفرد محفل کا کیا کہنا
رات بھر شعلۂ جاں خوب بڑھایا جائے
پھر دمِ صبح ہی خوابوں کو جلایا جائے
جب قضا لکھ ہی چکی سلسلۂ راہِ فنا
کیوں نہ پھر وقتِ اجل جلد بلایا جائے
ساعتِ شام، غمِ ہجر کا سناٹا ہے
شہرِ اوہام کو سپنوں سے سجایا جائے
کیا تمہیں یاد ہے انسان ہوا کرتے تھے
یہ بیاباں کبھی گنجان ہوا کرتے تھے
وقت تھم جاتا تھا دھڑکن کی صدا سنتے ہوئے
جب تِرے آنے کے امکان ہوا کرتے تھے
سانس رک جاتی تھی، لہجے میں کسک ہوتی تھی
جس سمے کوچ کے اعلان ہوا کرتے تھے
جواب مانگتا تھا میں سوال دے دیا گیا
تلاش در تلاش کا وبال دے دیا گیا
عطا ہوا تھا جب یقیں کی سبز وادیوں میں گھر
تو کیوں درِ گماں پسِ خیال دے دیا گیا
مِری زمینِ چشمِ نم میں خواب بو دئیے گئے
مجھے خمیرِ شوقِ لا زوال دے دیا گیا