کیا تمہیں یاد ہے انسان ہوا کرتے تھے
یہ بیاباں کبھی گنجان ہوا کرتے تھے
وقت تھم جاتا تھا دھڑکن کی صدا سنتے ہوئے
جب تِرے آنے کے امکان ہوا کرتے تھے
سانس رک جاتی تھی، لہجے میں کسک ہوتی تھی
جس سمے کوچ کے اعلان ہوا کرتے تھے
نامہ بر آتا تھا، رستے بھی تکے جاتے تھے
کیا جواں وقت تھا، رومان ہوا کرتے تھے
جانے والوں کو کبھی لوٹنا ہوتا ہی نہ تھا
ملتوی تب بھی یوں پیمان ہوا کرتے تھے
چشم و ابرو، شبِ مہتاب، جمالِ ساقی
کیا تمنا بھرے عنوان ہوا کرتے تھے
بحرِ آتش میں رواں شوق کی ناؤ رہتی
عشق دشوار تھا، بحران ہوا کرتے تھے
دل جلے کوچۂ جاناں کے فسوں زینوں پر
ابر آتا تھا تو مہمان ہوا کرتے تھے
سنگ سہہ لیتے تھے، صحرا میں نکل جاتے تھے
قیس اس وقت کے نادان ہوا کرتے تھے
یہ گماں تھا کہ سوالوں کے جواب آئیں گے
وقت کے قہر سے انجان ہوا کرتے تھے
اُن دنوں چاند پہ اک بڑھیا رہا کرتی تھی
طفل کیا سادہ تھے، حیران ہوا کرتے تھے
کان سن لیتے تھے جذبوں کی زباں کو اکثر
فاصلے تھے، مگر آسان ہوا کرتے تھے
یادِ ایام بڑی تلخ زمیں ہے عاصم
اس زمیں میں کبھی دیوان ہوا کرتے تھے
عاصم بخشی
No comments:
Post a Comment