تُو خود بھی نہیں اور تِرا ثانی نہیں ملتا
پیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتا
میں بیچ سمندر میں ہوں اور پیاس سے بیتاب
پینے کو تو اک بوند بھی پانی نہیں ملتا
دنیا کے کرشموں میں معمہ تو یہی ہے
دنیا کے کرشمات کا بانی نہیں ملتا
تُو خود بھی نہیں اور تِرا ثانی نہیں ملتا
پیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتا
میں بیچ سمندر میں ہوں اور پیاس سے بیتاب
پینے کو تو اک بوند بھی پانی نہیں ملتا
دنیا کے کرشموں میں معمہ تو یہی ہے
دنیا کے کرشمات کا بانی نہیں ملتا
اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو
چلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دو
تحفے میں انوکھا زخم حالات نے بخشا ہے
احساس کا خوں دے کر شاداب ہی رہنے دو
وہ ہاتھ میں آتا ہے، اور ہاتھ نہیں آتا
سیماب صفت پیکر سیماب ہی رہنے دو
میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں
پھر اک جدید خاکہ ترتیب دے رہا ہوں
ہر ساز کا ترنم یکسانیت نما ہے
اک تازہ کارِ نغمہ ترتیب دے رہا ہوں
جس میں تِری تجلی خود آ کے جاگزیں ہو
دل میں اک ایسا گوشہ ترتیب دے رہا ہوں
کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں
ورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میں
جھوٹ کی نمکینی سے باتوں میں آ جاتا ہے مزا
کوئی نہیں لیتا دلچسپی پھیکی سی سچائی میں
اپنے تھے بیگانے تھے اور آخر میں خود میری ذات
کس کس کا اکرام ہوا ہے، کتنا مِری رسوائی میں
(منافقت کا چہرہ اجاگر کرتی عمدہ نظم) ذکر اس پری وش کا
آج ایک محفل میں دوستوں کا مجمع تھا
ایک معتبر ساتھی ہم جلیس و ہم مشرب
دوستوں کی محفل سے آج غیر حاضر تھا
اک رفیق کو اپنے دوست کا خیال آیا
گفتگو کا رُخ بدلا ذکر چھڑ گیا اُس کا
“ایک محترم بولے ”وہ بڑا منافق ہے