Showing posts with label ظفر حمیدی. Show all posts
Showing posts with label ظفر حمیدی. Show all posts

Tuesday, 14 September 2021

تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتا

 تُو خود بھی نہیں اور تِرا ثانی نہیں ملتا

پیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتا

میں بیچ سمندر میں ہوں اور پیاس سے بیتاب

پینے کو تو اک بوند بھی پانی نہیں ملتا

دنیا کے کرشموں میں معمہ تو یہی ہے

دنیا کے کرشمات کا بانی نہیں ملتا

Friday, 10 September 2021

اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

 اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

چلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دو

تحفے میں انوکھا زخم حالات نے بخشا ہے

احساس کا خوں دے کر شاداب ہی رہنے دو

وہ ہاتھ میں آتا ہے، اور ہاتھ نہیں آتا

سیماب صفت پیکر سیماب ہی رہنے دو

Wednesday, 8 September 2021

میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں

 میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں

پھر اک جدید خاکہ ترتیب دے رہا ہوں

ہر ساز کا ترنم یکسانیت نما ہے

اک تازہ کارِ نغمہ ترتیب دے رہا ہوں

جس میں تِری تجلی خود آ کے جاگزیں ہو

دل میں اک ایسا گوشہ ترتیب دے رہا ہوں

Friday, 6 August 2021

کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں

 کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں

ورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میں

جھوٹ کی نمکینی سے باتوں میں آ جاتا ہے مزا

کوئی نہیں لیتا دلچسپی پھیکی سی سچائی میں

اپنے تھے بیگانے تھے اور آخر میں خود میری ذات

کس کس کا اکرام ہوا ہے، کتنا مِری رسوائی میں

Saturday, 17 April 2021

ذکر اس پری وش کا

(منافقت کا چہرہ اجاگر کرتی عمدہ نظم) ذکر اس پری وش کا


آج ایک محفل میں دوستوں کا مجمع تھا

ایک معتبر ساتھی ہم جلیس و ہم مشرب

دوستوں کی محفل سے آج غیر حاضر تھا

اک رفیق کو اپنے دوست کا خیال آیا

گفتگو کا رُخ بدلا ذکر چھڑ گیا اُس کا

“ایک محترم بولے ”وہ بڑا منافق ہے