Friday, 10 September 2021

اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

 اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

چلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دو

تحفے میں انوکھا زخم حالات نے بخشا ہے

احساس کا خوں دے کر شاداب ہی رہنے دو

وہ ہاتھ میں آتا ہے، اور ہاتھ نہیں آتا

سیماب صفت پیکر سیماب ہی رہنے دو

گہرائی میں خطروں کا امکاں تو زیادہ ہے

دریائے تعلق کو پایاب ہی رہنے دو

یہ مجھ پہ کرم ہو گا حصے میں مِرے اے دوست

اخلاص و مروت کے آداب ہی رہنے دو

ابہام کا پردہ ہے تشکیک کا ہے عالم

تم ذوقِ تجسس کو بےتاب ہی رہنے دو

مت جاؤ قریب اس کے تم ایک گہن بن کر

آنگن میں اسے اپنا مہتاب ہی رہنے دو

جب تک وہ نہیں آتا اک خواب حسیں ہو کر

تم اپنے شبستاں کو بے خواب ہی رہنے دو

وہ برف کا تودہ یا پتھر نہیں بن جائے

ہر قطرۂ اشکِ غم سیلاب ہی رہنے دو

وہ بحرِ فنا میں خود ڈوبا ہے تو اچھا ہے

فی الحال ظفر اس کو غرقاب ہی رہنے دو


ظفر حمیدی

No comments:

Post a Comment