Friday, 10 September 2021

عین ممکن تھا بے وفا ہو گا

 عین ممکن تھا بے وفا ہو گا

اب خدا جانے کیا سے کیا ہو گا

پہلے حیراں تھا اس طرح کیسے

درمیاں اپنے فاصلہ ہو گا

میں بھی آخر بدل گیا جاناں

با خدا تُو بھی سوچتا ہو گا

جب ستائے گی اس کو تنہائی

میرے سائے کو ڈھونڈتا ہو گا

جب وہ سمجھے گا ہجر کے دکھ کو

خود کو خود ہی ٹٹولتا ہو گا

عشق کا عشق سے علاج کرو

زہر کا زہر ہی دوا ہو گا

انتظار اور ہجر کی لذت

طاق پر جلتا اک دیا ہو گا

عہدِ رفتہ کا اک اثاثہ تھا

آندھیوں نے بجھا دیا ہو گا

بوئے گل، موسمِ بہاراں سا

جسم مشتِ غبار، اڑا ہو گا

ہم کہ سورج کو ہی جلا دیں گے

ہو گا ہو گا تِرا خدا ہو گا

میری آمد پہ خوف کھائیں گے

پاؤں رکھتے ہی زلزلہ ہو گا

پابجولاں صدا ہو چھن چھن کی

مقتلِ یار ناچتا ہو گا

بس تجھی کو رئیس چاہوں گی

یہ کسی اور نے کہا ہو گا


احمد رئیس کشمیری

No comments:

Post a Comment