عین ممکن تھا بے وفا ہو گا
اب خدا جانے کیا سے کیا ہو گا
پہلے حیراں تھا اس طرح کیسے
درمیاں اپنے فاصلہ ہو گا
میں بھی آخر بدل گیا جاناں
با خدا تُو بھی سوچتا ہو گا
جب ستائے گی اس کو تنہائی
میرے سائے کو ڈھونڈتا ہو گا
جب وہ سمجھے گا ہجر کے دکھ کو
خود کو خود ہی ٹٹولتا ہو گا
عشق کا عشق سے علاج کرو
زہر کا زہر ہی دوا ہو گا
انتظار اور ہجر کی لذت
طاق پر جلتا اک دیا ہو گا
عہدِ رفتہ کا اک اثاثہ تھا
آندھیوں نے بجھا دیا ہو گا
بوئے گل، موسمِ بہاراں سا
جسم مشتِ غبار، اڑا ہو گا
ہم کہ سورج کو ہی جلا دیں گے
ہو گا ہو گا تِرا خدا ہو گا
میری آمد پہ خوف کھائیں گے
پاؤں رکھتے ہی زلزلہ ہو گا
پابجولاں صدا ہو چھن چھن کی
مقتلِ یار ناچتا ہو گا
بس تجھی کو رئیس چاہوں گی
یہ کسی اور نے کہا ہو گا
احمد رئیس کشمیری
No comments:
Post a Comment