ابر چھایا تھا فضاؤں میں تِری باتوں کا
کتنا دلکش تھا وہ منظر بھری برساتوں کا
بجھتی شمعوں کے تعفن سے بچانے تجھ کو
میں نے آنچل میں سمیٹا ہے دھواں راتوں کا
کوئی شہنائی سے کہہ دو ذرا خاموش رہے
شور اچھا نہیں لگتا مجھے باراتوں کا
ابر چھایا تھا فضاؤں میں تِری باتوں کا
کتنا دلکش تھا وہ منظر بھری برساتوں کا
بجھتی شمعوں کے تعفن سے بچانے تجھ کو
میں نے آنچل میں سمیٹا ہے دھواں راتوں کا
کوئی شہنائی سے کہہ دو ذرا خاموش رہے
شور اچھا نہیں لگتا مجھے باراتوں کا
وہ تیری یاد کے لمحے تِرے خیال کے دن
علاج درد کے زخموں کے اندمال کے دن
وہ اک رچی بسی تہذیب اپنے پُرکھوں کی
وہ دو یا چار سہی تھے مگر مثال کے دن
مجھے تو یاد ہے اب تک وہ کیا زمانہ تھا
تِرے جواب کا موسم، مِرے سوال کے دن
نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگ
شاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگ
ریت ہی ریت اگر اپنا مقدر ٹھہرا
کیونکہ پھر ایک گھروندا ہی بنائیں ہم لوگ
جسم کی قید کوئی قید نہیں ہوتی ہے
آؤ سب جھوٹی حدیں توڑ کے جائیں ہم لوگ
ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیں
دل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اُجڑ جاتے ہیں
کیسے خوشرنگ ہوں خوش ذائقہ پھل ہوں، لیکن
وقت پر چکھے نہیں جائیں تو سڑ جاتے ہیں
اپنے لفظوں کے تأثر کا ذرا دھیان رہے
حاکمِ شہر کبھی لوگ بھی اڑ جاتے ہیں
ابھی کچھ اور
ابھی کچھ اور سانسیں رہ گئی ہیں
ابھی کچھ اور رسالوں تک مجھے گننا ہے ان کو
ابھی کچھ قرض ہے مجھ پر سبھی کا
ابھی کچھ اور خوشیاں بانٹنی ہیں
ابھی کچھ قہقہوں کو نغمگی خیرات کرنی ہے
ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھا
میز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھا
تُو نے اک شام جو آنے کا کیا تھا وعدہ
میں نے دن رات چراغوں کو جلائے رکھا
کس سلیقے سے خیالوں کو زباں دے دے کر
مجھ کو اس شخص نے باتوں میں لگائے رکھا