Showing posts with label شبنم عابدی. Show all posts
Showing posts with label شبنم عابدی. Show all posts

Thursday, 17 November 2022

ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کا

 ابر چھایا تھا فضاؤں میں تِری باتوں کا

کتنا دلکش تھا وہ منظر بھری برساتوں کا

بجھتی شمعوں کے تعفن سے بچانے تجھ کو

میں نے آنچل میں سمیٹا ہے دھواں راتوں کا

کوئی شہنائی سے کہہ دو ذرا خاموش رہے

شور اچھا نہیں لگتا مجھے باراتوں کا

Sunday, 13 November 2022

وہ تیری یاد کے لمحے ترے خیال کے دن

 وہ تیری یاد کے لمحے تِرے خیال کے دن

علاج درد کے زخموں کے اندمال کے دن

وہ اک رچی بسی تہذیب اپنے پُرکھوں کی

وہ دو یا چار سہی تھے مگر مثال کے دن

مجھے تو یاد ہے اب تک وہ کیا زمانہ تھا

تِرے جواب کا موسم، مِرے سوال کے دن

Wednesday, 2 November 2022

نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگ

 نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگ 

شاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگ 

ریت ہی ریت اگر اپنا مقدر ٹھہرا 

کیونکہ پھر ایک گھروندا ہی بنائیں ہم لوگ 

جسم کی قید کوئی قید نہیں ہوتی ہے 

آؤ سب جھوٹی حدیں توڑ کے جائیں ہم لوگ

Monday, 31 October 2022

ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیں

 ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیں

دل کے جنگل یوں ہی بستے ہیں اُجڑ جاتے ہیں

کیسے خوشرنگ ہوں خوش ذائقہ پھل ہوں، لیکن

وقت پر چکھے نہیں جائیں تو سڑ جاتے ہیں

اپنے لفظوں کے تأثر کا ذرا دھیان رہے

حاکمِ شہر کبھی لوگ بھی اڑ جاتے ہیں

Thursday, 22 September 2022

ابھی کچھ اور سانسیں رہ گئی ہیں

ابھی کچھ اور


ابھی کچھ اور سانسیں رہ گئی ہیں

ابھی کچھ اور رسالوں تک مجھے گننا ہے ان کو

ابھی کچھ قرض ہے مجھ پر سبھی کا

ابھی کچھ اور خوشیاں بانٹنی ہیں

ابھی کچھ قہقہوں کو نغمگی خیرات کرنی ہے

Friday, 16 September 2022

ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھا

ذات کے کرب کو لفظوں میں دبائے رکھا

میز پر تیری کتابوں کو سجائے رکھا

تُو نے اک شام جو آنے کا کیا تھا وعدہ

میں نے دن رات چراغوں کو جلائے رکھا

کس سلیقے سے خیالوں کو زباں دے دے کر

مجھ کو اس شخص نے باتوں میں لگائے رکھا