Wednesday, 28 October 2026

خوش رہیں جی جان سے مجھ سے خفا ہیں کیا ہوا

 خُوش رہیں جی جان سے مُجھ سے خفا ہیں کیا ہُوا

اب نہیں کچھ آرزُو،۔ بیٹی ہوئی، بیٹا ہوا

باتیں ہی باتیں ہیں بس کرنا کرانا کُچھ نہیں

بُڑبڑایا کرتا ہے یونہی مؤا بیٹھا ہوا

جا کے رگڑو ناک کعبے میں بھی اے حجن اگر

مِٹ نہیں سکتا کبھی تقدیر کا لِکھا ہوا

کیا کہوں کس ہیرا پھیری میں کٹے دن بیاہ کے

جان اک گردش سے چھُوٹی ختم جب چالا ہوا

کہہ کے شیدا سے میں تیری کھال ہی کھچواں گی

رونگٹا بھی میری بچی کا اگر مَیلا ہوا


شیدا الہ آبادی

مولوی نثار حسین خاں

No comments:

Post a Comment