دلِ فگار امیدِ وصال رکھتا ہے
بچارہ سادہ ہے، اچھا خیال رکھتا ہے
عجیب حُسنِ تکلُّم عطا ہوا ہے اسے
وہ اپنی باتوں میں طُرفہ کمال رکھتا ہے
کبھی جو پُوچھوں سبب کس لیے اُداس ہو تم
تو دل نشین تبسّم سے ٹال رکھتا ہے
بڑے سلیقے سے کرتا ہے لاجواب مجھے
مِرے سوال کے بدلے سوال رکھتا ہے
اسی کے دستِ تصرّف میں دل ہے میرا، وہی
حریمِ ناز میں چوری کا مال رکھتا ہے
محبتوں میں مراسم بھی ہوں ضروری نہیں
ذرا سا ذکر تعلّق بحال رکھتا ہے
اسی کو مشقِ سِتم آندھیاں بناتی ہیں
وہ اک چراغ جو رستہ اُجال رکھتا ہے
شگفتہ نعیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment