Showing posts with label شاہانہ ناز. Show all posts
Showing posts with label شاہانہ ناز. Show all posts

Thursday, 30 March 2023

ہتھیلی پہ ہر اک لمحہ نہ تم جلتا دیا رکھنا

 ہتھیلی پہ ہر اک لمحہ نہ تم جلتا دِیا رکھنا

محبت بانٹنا لیکن نہ امید و صِلہ رکھنا

ہیں نازک آبگینے یہ نہ ان کو ٹھیس لگ جائے

ذرا سا سیکھ لو خوابوں کو آنکھوں میں چھپا رکھنا

ابھی آغاز الفت ہے ابھی سے تھک گئے ہو تم

بڑی پُر پیچ راہیں ہیں ذرا سا حوصلہ رکھنا

Sunday, 9 January 2022

سبب برسات کا اشکوں کی طغیانی بنے گی

 سبب برسات کا اشکوں کی طغیانی بنے گی

ہیں کالی بدلیاں یہ رات طوفانی بنے گی

نہیں معلوم تھا یہ اے دلِ نادان ہم کو

اذیت اس قدر جذبوں کی ارزانی بنے گی

تیری فطرت میں شامل جلد بازی ہے تو سن لے

تیری عجلت پسندی ہی پشیمانی بنے گی

Sunday, 13 June 2021

ہو جو اپنی ہی طلبگار کہیں میں تو نہیں

 ہو جو اپنی ہی طلبگار کہیں میں تو نہیں

کوئی تو ہے پس دیوار کہیں میں تو نہیں

یہ جو تو خواب ادھورے سے لیے پھرتا ہے

ان کی تعبیر دگر بار کہیں میں تو نہیں

تیرے دل میں جو خلش ہوتی ہے اس کا کے باعث

میں نہیں تھی مگر اس بار کہیں میں تو نہیں

Friday, 11 June 2021

یہ کیا کہ دامن دل کو سنبھالتے رہنا

 یہ کیا کہ دامن دل کو سنبھالتے رہنا

کہیں پکارے محبت تو ٹالتے رہنا

کسی کو خوابوں کی جاگیر سونپ کر پہلے

بڑے جتن سے اسی کو نکالتے رہنا

جو خیر چاہتے ہیں ان کو چاہنا نہ کبھی

تم آستینوں میں بس سانپ پالتے رہنا

Thursday, 10 June 2021

میں خود آگاہ ہوتی جا رہی ہوں

 میں خود آگاہ ہوتی جا رہی ہوں

تیرے ہمراہ ہوتی جا رہی ہوں

زمانہ دیکھ کے کہتا ہے مجھ کو

کہ میں گمراہ ہوتی جا رہی ہوں

نجانے کب وہ ٹھوکر مار ڈالے

میں سنگِ راہ ہوتی جا رہی ہوں

مڑ کے تکتے ہیں کہاں چھوڑ کے جانے والے

 مڑ کے تکتے ہیں کہاں چھوڑ کے جانے والے

لاکھ دیں ان کو صدا ان کو بلانے والے

گردِ راہ جن کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے

وہ ٹھکانوں پہ نہیں لوٹ کے آنے والے

کیسے ہوتا ہے بپا حشر بتاتے ہیں تجھے

جب ہوں محبوب کے تیور بھی زمانے والے

Wednesday, 9 June 2021

اسے کہنا کہ مجھ کو منتظر رہنا بہت تکلیف دیتا ہے

 اسے کہنا کہ

مجھ کو منتظر رہنا

بہت تکلیف دیتا ہے

کبھی آئے

مجھے دیکھے

کہ اس کی یاد میں ہم نے

Monday, 14 December 2020

وہ جو میرا ماہ تمام ہے

 وہ جو میرا ماہِ تمام ہے


دلِ منتظر کی یہ وحشتیں

یہ مِرا جنوں، میری شدتیں

ہیں جو ذہن و دل مِرے مضطرب

یہ مِری دعائیں، مِری طلب

سبھی اس کی ذات کے نام ہیں

وہ جو میرا ماہِ تمام ہے