وہ جو میرا ماہِ تمام ہے
دلِ منتظر کی یہ وحشتیں
یہ مِرا جنوں، میری شدتیں
ہیں جو ذہن و دل مِرے مضطرب
یہ مِری دعائیں، مِری طلب
سبھی اس کی ذات کے نام ہیں
وہ جو میرا ماہِ تمام ہے
مِری ذات، میری صفات سب
مِری خامشی، میری بات سب
یہ مِری ہنسی، یہ مِری خوشی
مِرے خواب اور مِری تشنگی
سبھی اس کی ذات کے نام ہیں
وہ جو میرا ماہِ تمام ہے
میری زیست کے سبھی مرحلے
مِری منزلیں، میرے راستے
ہیں جو پیچ و خم سبھی راہ کے
یہ سبھی نظارے نگاہ کے
سبھی اس کی ذات کے نام ہیں
وہ جو میرا ماہِ تمام ہے
شاہانہ ناز
No comments:
Post a Comment