عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یاد سرکارﷺ کو سینے سے لگا رکھا ہے
عشق ان کا ہی فقط دل میں بسا رکھا ہے
لب پہ جس نے بھی ترا ذکر سجا رکھا ہے
خود کو اس نے یوں مصائب سے بچا رکھا ہے
مجھ پہ انعام ہوا ہے یہ مرے آقاﷺ کا
الفتِ شاہﷺ سے اس دل کو سجا رکھا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یاد سرکارﷺ کو سینے سے لگا رکھا ہے
عشق ان کا ہی فقط دل میں بسا رکھا ہے
لب پہ جس نے بھی ترا ذکر سجا رکھا ہے
خود کو اس نے یوں مصائب سے بچا رکھا ہے
مجھ پہ انعام ہوا ہے یہ مرے آقاﷺ کا
الفتِ شاہﷺ سے اس دل کو سجا رکھا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ کس کا لاڈلہ ہے اور کون شہ سوار ہے
فلک سے بھی بلند جس کے پاؤں کا غبار ہے
لٹائیں اپنے ہاتھوں میں اٹھا کے شیر خوار بھی
یہ عشق ہے محمدیﷺ، بڑا ہی ذی وقار ہے
حسینؑ اپنے ہی لہو سے جو سنوارتے رہے
چہار سُو وہ گُلستانِ مصطفیٰﷺ کی بہار ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلب و نظر میں طیبہ بساؤ تو عید ہے
یوں آخرت کو اپنی بناؤ تو عید ہے
میلاد مصطفیٰﷺ کا مناؤ تو عید ہے
نعتِ نبیﷺ کو لب پہ سجاؤ تو عید ہے
کب جان اپنی موت سے کوئی چھڑا سکا
ہجرِ نبیﷺ میں اشک بہاؤ تو عید ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ان کا نہیں ہے ثانی، نہ ماضی نہ حال میں
میرے نبیﷺ ہیں یکتا جمال و کمال میں
آئے ہیں جب بھی وہ مِرے حسنِ خیال میں
نکھرے تمام رنگ سخن اک جمال میں
ظلمت کو دور کر کے وہ لائے ہیں روشنی
چمکا ہے نور جہل کے ذہن و خیال میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سفر میں حضر میں آگہی آپ ہیں
قول میں فعل میں روشنی آپ ہیں
قبر میں حشر میں بزمِ امکان میں
ضامن و شافعِ امتی آپﷺ ہیں
از ازل تا ابد جہاں میں ہر طرف
رحمتیں، برکتیں، عزتیں آپ ہیں
مجھے تو جان سے پیاری وطن کی حرمت ہے
وجود اس کا مقدس،. یہ میری جنت ہے
رہے ہمیشہ تُو خوشحال میرے پیارے وطن
تجھی سے میری ہیں خوشیاں تجھی سے راحت ہے
کیے عدو نے جتن ہیں تجھے مٹانے کے
خدا کے فضل نے رکھا تجھے سلامت ہے