Showing posts with label فوق کریمی. Show all posts
Showing posts with label فوق کریمی. Show all posts

Wednesday, 24 May 2017

ہوا ہے یوں محبت کا اثر آہستہ آہستہ

ہوا ہے یوں محبت کا اثر آہستہ آہستہ
اِدھر آہستہ آہستہ، اُدھر آہستہ آہستہ
حریمِ حُسن کے آداب رکھ پیشِ نظر اے دل
دھڑک آہستہ آہستہ، گزر آہستہ آہستہ
مِری آنکھوں میں آ دل میں اتر پھر روح میں کھو جا
مگر آہستہ آہستہ،۔ مگر آہستہ آہستہ

کلی کو گدگداتی ہے بہار آہستہ آہستہ

کلی کو گدگداتی ہے بہار آہستہ آہستہ
گلوں پر آ رہا ہے اب نکھار آہستہ آہستہ
یہ دل کا درد ہے اِس میں سکوں مشکل سے ملتا ہے
’’ذرا ٹھہرو کہ آئے گا قرار آہستہ آہستہ‘‘
لگائے ہیں یہ کس کس نے مجھے معلوم ہے سب کچھ
کروں کا دل کے زخموں کا شمار آہستہ آہستہ

بس اک نگاہ سے مست شراب کر کے مجھے

بس اک نگاہ سے مستِ شراب کر کے مجھے
کسی نے چھوڑ دیا انتخاب کر کے مجھے
مرے سوال پر آنکھیں اٹھی تھیں لب تھے چپ
دیا جواب مگر لاجواب کر کے مجھے
وہ اس ادا سے چلے آج اجنبی بن کر
نظر بچا کے نظر سے خطاب کر کے مجھے

Thursday, 11 May 2017

خوابیدہ حسرتوں کو جگانے لگے ہیں آپ

خوابیدہ حسرتوں کو جگانے لگے ہیں آپ
بیٹھے بٹھائے آگ لگانے لگے ہیں آپ
پھر دے رہی ہے گردشِ دوراں فریبِ شوق
’’رہ رہ کے پھر خیال میں آنے لگے ہیں آپ‘‘
وہ ہو چکا ہے کب کا نگاہوں سے آشکار
جو راز آج ہم سے چھپانے لگے ہیں آپ

کوئی ہو معتبر سے معتبر دیکھا نہیں جاتا

کوئی ہو معتبر سے معتبر دیکھا نہیں جاتا
لباسِ راہزن میں راہبر دیکھا نہیں جاتا
کبھی پرواز تھی جن طائروں کی آسمانوں میں
زمیں پر اب انہیں بے بال و پر دیکھا نہیں جاتا
تمہارے سنگِ در سے اٹھ کے جائیں تو کہاں جائیں
کہ ہم سے اب کسی کا سنگِ در دیکھا نہیں جاتا

آنسو جھلک رہے ہیں چشم فسوں اثر میں

آنسو جھلک رہے ہیں چشمِ فسوں اثر میں
یا مۓ بھری ہوئی ہے پیمانۂ نظر میں
پاتا ہوں شامِ غم کو مِنت کش سحر میں
کروٹ بدل رہی ہے دنیا مِری نظر میں
کچھ پُر شکن جبیں سے ظاہر ہے برہمی سی
کچھ لطف بھی نہاں ہے بہکی ہوئی نظر میں

Sunday, 30 April 2017

آنکھیں کبھی زلفیں کبھی لب دیکھ رہے ہیں

آنکھیں کبھی زلفیں، کبھی لب دیکھ رہے ہیں
آئینے میں گزری ہوئی شب دیکھ رہے ہیں
جب تک تھے مرے سامنے آنکھوں میں حیا تھی
جاتے ہوئے مڑ مڑ کے وہ اب دیکھ رہے ہیں
اللہ بچائے نگہِ بد سے کسی کی
محفل میں انہیں آج تو سب دیکھ رہے ہیں

لب اگر کھول دوں اک طرفہ تماشا ہو جائے

لب اگر کھول دوں، اک طرفہ تماشا ہو جائے
جانے پھر کون تری بزم میں رسوا ہو جائے
بے نیازِ حرم و دیر ہے سجدہ میرا
میں جہاں سر کو جھکا دوں وہیں کعبہ ہو جائے
ظلمتِ شب سے ہے بے زار نظامِ عالم
’’تو جو زلفوں کو ہٹا دے تو سویرا ہو جائے‘‘

خوشا قسمت وہ آئے ہیں تو ایسے میں دعا جاگے

خوشا قسمت وہ آئے ہیں تو ایسے میں دعا جاگے
گھٹا برسے، اٹھے ساغر، نظامِ مے کدہ جاگے
خمار آلودہ آنکھیں، سرخ چہرہ، منتشر زلفیں
وہ کیا جاگے کہ فطرت کے نقوشِ فتنہ زا جاگے
نہیں ٹوٹا ابھی پِندارِ زہد و اِتَّقا شاید
کوئی ساغر بکف جادو نظر کافر ادا جاگے

کیوں ہو گیا ہے سرد یہ بازار کچھ کہو

کیوں ہو گیا ہے سرد یہ بازار کچھ کہو
یوسفؑ کا بھی نہیں ہے خریدار کچھ کہو
اے حازقانِ وقت، طرحدار کچھ کہو
کیوں ہے خموش آپ کا بیمار کچھ کہو
زنداں میں رہ کے کس لیے لب ہیں تمہارے بند
کیا جرم ہے تمہارا سزاوار کچھ کہو