Showing posts with label سراج گلاؤٹھوی. Show all posts
Showing posts with label سراج گلاؤٹھوی. Show all posts

Monday, 1 January 2024

تیری حمد و ثنا میں کروں یا خدا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تیری حمد و ثناء میں کروں یا خدا

اپنا رحم و کرم کر دے مجھ کو عطا

تُو رحیم و کریم اور بخشندہ ہے

تیری ہی ذات جاوید و پائندہ ہے

آسمانوں زمینوں کا خالق ہے تُو

ان میں موجود ہر جاں کا رازق ہے تُو

Tuesday, 6 December 2022

غزل نے پہنا دل آرا لباس لفظوں کا

 غزل نے پہنا دل آرا لباس لفظوں کا

جب آیا بزم میں فطرت شناس لفظوں کا

نہیں کسی نے سنی التماس لفظوں کی

اسی لیے تو ہے چہرہ اداس لفظوں کا

یقین کون کرے آج قسموں وعدوں پر

نہیں ہے اب تو کسی کو بھی پاس لفظوں کا

Thursday, 17 November 2022

چمن میں کیا ہوا کس نے یہ ہلچل سی مچائی ہے

 چمن میں کیا ہوا کس نے یہ ہلچل سی مچائی ہے

کل چٹکی کہ دل ٹوٹا کوئی آواز آئی ہے

مسیحا! کیسی یہ تدبیر تُو نے آزمائی ہے

نمک سے میرے زخموں کی پرانی آشنائی ہے

زمانے کی سمجھ میں کب جنوں کی بات آئی ہے

ہنسی دیوانگی کی میری دنیا نے اڑائی ہے

Monday, 14 November 2022

مرے خیال میں جب بھی کبھی وہ آتے ہیں

 مِرے خیال میں جب بھی کبھی وہ آتے ہیں

چراغ دل میں امیدوں کا جگمگاتے ہیں

چمن کو دوستو! ایسے بھی ہم سجاتے ہیں

ہر ایک پھول کیا کانٹوں سے بھی نبھاتے ہیں

نظر کے جام وہ جب جب ہمیں پلاتے ہیں

خدا کے نام پہ پہلا سبو اٹھاتے ہیں

Friday, 11 November 2022

میں غمزدہ بچھڑ کے پریشان تم بھی ہو

 میں غمزدہ بچھڑ کے پریشان تم بھی ہو

دل کو مِرے اجاڑ کے ویران تم بھی ہو

میرا وجود ہو گیا جیسے کوئی کھنڈر

حالت بتا رہی ہے بیابان تم بھی ہو

رنج و الم کی دھوپ نے جُھلسا دیا ہمیں

دل میں ہمارے سائے کا ارمان تم بھی ہو

Thursday, 27 October 2022

کر دیتے ہیں جو پیار میں غرقاب ترے خواب

 کر دیتے ہیں جو پیار میں غرقاب تِرے خواب

ہیں میرے لیے عشق کی محراب ترے خواب

یادوں کی حسیں رات میں مہتاب ترے خواب

ترسیلِ محبت کے سبھی باب ترے خواب

اب تجھ سے ملاقات کی صورت نہیں کوئی

ہیں میرے لیے جینے کے اسباب ترے خواب

Wednesday, 26 October 2022

خون بے بس کا بہائیں تو غضب ہوتا ہے

 خون بے بس کا بہائیں تو غضب ہوتا ہے

بستیاں ان کی جلائیں تو غضب ہوتا ہے

حد سے بڑھ جائیں خطائیں تو غضب ہوتا ہے

نہ ملیں اس پہ سزائیں تو غضب ہوتا ہے

آگ گلشن میں لگاتے ہیں جو تقریروں سے

گیت الفت کے وہ گائیں تو غضب ہوتا ہے

Tuesday, 25 October 2022

ذہن میں ہلچل ہے اک آخر مسلماں کیا کرے

 آج ملت ہے پریشاں


ملتِ احمدﷺ پریشاں ہے کرے تو کیا کرے

حالِ دل کس کو سنائے کس سے اب شکوہ کرے

اپنے حالِ زار پر کیا رات دن رویا کرے

ناخنِ تدبیر سے مشکل کا حل پیدا کرے

ذہن میں ہلچل ہے اک آخر مسلماں کیا کرے

Monday, 24 October 2022

ندی میں پیار کی یکساں چڑھاؤ ہے اب تک

 ندی میں پیار کی یکساں چڑھاؤ ہے اب تک

وہی ہے شوق وہی دل میں چاؤ ہے اب تک

تمہاری ذات سے مجھ کو لگاؤ ہے اب تک

تمہاری سمت ہی دل کا جھکاؤ ہے اب تک

جو ایک روز تِری بے رخی نے بخشا تھا

ہمارے دل میں سلامت وہ گھاؤ ہے اب تک

Saturday, 22 October 2022

کام بگڑا تھا مرا جو بھی بنایا تو نے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کام بگڑا تھا مِرا جو بھی بنایا تُو نے

میرے مولیٰ مجھے ہر آن سنبھالا تو نے

جان پتھر میں پلی اس کو کھلایا تو نے

وہیل مچھلی کو سمندر میں ہے پالا تو نے

آسماں اور یہ زمیں سب ہے بنایا تو نے

ایک میزان سے پھر سب کو چلایا تو نے

Tuesday, 16 August 2022

تیری حمد و ثنا میں کروں یا خدا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تیری حمد و ثنا میں کروں یا خدا

اپنا رحم و کرم کر دے مجھ کو عطا

تُو رحیم و کریم اور بخشندہ ہے

تیری ہی ذات جاوید و پائندہ ہے

تُو ہی جبّار ہے، تُو ہی قہّار ہے

تُو ہی ستّار ہے، تو ہی غفّار ہے