عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیری حمد و ثناء میں کروں یا خدا
اپنا رحم و کرم کر دے مجھ کو عطا
تُو رحیم و کریم اور بخشندہ ہے
تیری ہی ذات جاوید و پائندہ ہے
آسمانوں زمینوں کا خالق ہے تُو
ان میں موجود ہر جاں کا رازق ہے تُو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیری حمد و ثناء میں کروں یا خدا
اپنا رحم و کرم کر دے مجھ کو عطا
تُو رحیم و کریم اور بخشندہ ہے
تیری ہی ذات جاوید و پائندہ ہے
آسمانوں زمینوں کا خالق ہے تُو
ان میں موجود ہر جاں کا رازق ہے تُو
غزل نے پہنا دل آرا لباس لفظوں کا
جب آیا بزم میں فطرت شناس لفظوں کا
نہیں کسی نے سنی التماس لفظوں کی
اسی لیے تو ہے چہرہ اداس لفظوں کا
یقین کون کرے آج قسموں وعدوں پر
نہیں ہے اب تو کسی کو بھی پاس لفظوں کا
چمن میں کیا ہوا کس نے یہ ہلچل سی مچائی ہے
کل چٹکی کہ دل ٹوٹا کوئی آواز آئی ہے
مسیحا! کیسی یہ تدبیر تُو نے آزمائی ہے
نمک سے میرے زخموں کی پرانی آشنائی ہے
زمانے کی سمجھ میں کب جنوں کی بات آئی ہے
ہنسی دیوانگی کی میری دنیا نے اڑائی ہے
مِرے خیال میں جب بھی کبھی وہ آتے ہیں
چراغ دل میں امیدوں کا جگمگاتے ہیں
چمن کو دوستو! ایسے بھی ہم سجاتے ہیں
ہر ایک پھول کیا کانٹوں سے بھی نبھاتے ہیں
نظر کے جام وہ جب جب ہمیں پلاتے ہیں
خدا کے نام پہ پہلا سبو اٹھاتے ہیں
میں غمزدہ بچھڑ کے پریشان تم بھی ہو
دل کو مِرے اجاڑ کے ویران تم بھی ہو
میرا وجود ہو گیا جیسے کوئی کھنڈر
حالت بتا رہی ہے بیابان تم بھی ہو
رنج و الم کی دھوپ نے جُھلسا دیا ہمیں
دل میں ہمارے سائے کا ارمان تم بھی ہو
کر دیتے ہیں جو پیار میں غرقاب تِرے خواب
ہیں میرے لیے عشق کی محراب ترے خواب
یادوں کی حسیں رات میں مہتاب ترے خواب
ترسیلِ محبت کے سبھی باب ترے خواب
اب تجھ سے ملاقات کی صورت نہیں کوئی
ہیں میرے لیے جینے کے اسباب ترے خواب
خون بے بس کا بہائیں تو غضب ہوتا ہے
بستیاں ان کی جلائیں تو غضب ہوتا ہے
حد سے بڑھ جائیں خطائیں تو غضب ہوتا ہے
نہ ملیں اس پہ سزائیں تو غضب ہوتا ہے
آگ گلشن میں لگاتے ہیں جو تقریروں سے
گیت الفت کے وہ گائیں تو غضب ہوتا ہے
آج ملت ہے پریشاں
ملتِ احمدﷺ پریشاں ہے کرے تو کیا کرے
حالِ دل کس کو سنائے کس سے اب شکوہ کرے
اپنے حالِ زار پر کیا رات دن رویا کرے
ناخنِ تدبیر سے مشکل کا حل پیدا کرے
ذہن میں ہلچل ہے اک آخر مسلماں کیا کرے
ندی میں پیار کی یکساں چڑھاؤ ہے اب تک
وہی ہے شوق وہی دل میں چاؤ ہے اب تک
تمہاری ذات سے مجھ کو لگاؤ ہے اب تک
تمہاری سمت ہی دل کا جھکاؤ ہے اب تک
جو ایک روز تِری بے رخی نے بخشا تھا
ہمارے دل میں سلامت وہ گھاؤ ہے اب تک
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کام بگڑا تھا مِرا جو بھی بنایا تُو نے
میرے مولیٰ مجھے ہر آن سنبھالا تو نے
جان پتھر میں پلی اس کو کھلایا تو نے
وہیل مچھلی کو سمندر میں ہے پالا تو نے
آسماں اور یہ زمیں سب ہے بنایا تو نے
ایک میزان سے پھر سب کو چلایا تو نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیری حمد و ثنا میں کروں یا خدا
اپنا رحم و کرم کر دے مجھ کو عطا
تُو رحیم و کریم اور بخشندہ ہے
تیری ہی ذات جاوید و پائندہ ہے
تُو ہی جبّار ہے، تُو ہی قہّار ہے
تُو ہی ستّار ہے، تو ہی غفّار ہے