Showing posts with label روشن نگینوی. Show all posts
Showing posts with label روشن نگینوی. Show all posts

Friday, 19 April 2024

رعنائی وہ گل میں ہے نہ برنائی سحر میں

 رعنائی وہ گل میں ہے نہ برنائی سحر میں

اک بات ہے جو آپ کی دُزدیدہ نظر میں

معلوم یہ ہوتا ہے نہیں منزلِ مقصود

محسوس یہ ہوتا ہے کہ دنیا ہے سفر میں

قیمت میں مہ و مہر سے بڑھ کے ہوں مگر قدر

اِک سنگ ہوں ٹھکرایا ہوا راہگزر میں

Monday, 15 April 2024

تو نے ذروں کو کرنوں کی دستار دی

 قائداعظم کو خراجِ تحسین


تُو نے ذروں کو کرنوں کی دستار دی

سنگریزوں کو لعل و گوہر کر دیا

خاکِ رہ سے شعائیں لپکنے لگیں

گرد کو مہر کا ہمسفر کر دیا

تُو کہ تھا پیکرِ نظم و ضبط و یقین

تُو کہ تھا واقفِ رازِ فردا و دی

Sunday, 3 December 2023

قدم قدم پر منتظر ہیں آج کامرانیاں

 قدم قدم پر منتظر ہیں آج کامرانیاں

روش روش پہ ڈھونڈتی ہیں تجھ کو شادمانیاں

اُفق کے پار یہ شفق کی سُرخیاں، نہیں، نہیں

سُنا رہا ہے کوئی تیرے عزم کی کہانیاں

زبانِ خلق پر ہے تیری عظمتوں کی داستاں

تیرے بلند حوصلوں کا معترف ہے کُل جہاں

Saturday, 23 July 2022

دام پھیلائے ہوئے حرص و ہوا ہیں کتنے

 دام پھیلائے ہوئے حرص و ہوا ہیں کتنے

ایک بندہ ہے، مگر اس کے خدا ہیں کتنے

ایک اک ذرے میں پوشیدہ ہیں کتنے خورشید

ایک اک قطرے میں طوفان بپا ہیں کتنے

چند ہنستے ہوئے پھولوں کا چمن نام نہیں

غور سے دیکھ کہ پامال صبا ہیں کتنے

Friday, 13 November 2020

تجھ کو قسم ہے میری نہ آنا ہاتھ خالی

 گیت


تجھ کو قسم ہے میری، نہ آنا ہاتھ خالی

آنکھوں میں بسنے والے، میرے چمن کے مالی

میرے چمن کے مالی ۔۔۔


کہتا ہے پیار میرا، تازہ گلاب لانا میرے واسطے صنم

تحفہ یہ میری خاطر، تُو لاجواب لانا، لانا سجا کے ڈالی