رعنائی وہ گل میں ہے نہ برنائی سحر میں
اک بات ہے جو آپ کی دُزدیدہ نظر میں
معلوم یہ ہوتا ہے نہیں منزلِ مقصود
محسوس یہ ہوتا ہے کہ دنیا ہے سفر میں
قیمت میں مہ و مہر سے بڑھ کے ہوں مگر قدر
اِک سنگ ہوں ٹھکرایا ہوا راہگزر میں
رعنائی وہ گل میں ہے نہ برنائی سحر میں
اک بات ہے جو آپ کی دُزدیدہ نظر میں
معلوم یہ ہوتا ہے نہیں منزلِ مقصود
محسوس یہ ہوتا ہے کہ دنیا ہے سفر میں
قیمت میں مہ و مہر سے بڑھ کے ہوں مگر قدر
اِک سنگ ہوں ٹھکرایا ہوا راہگزر میں
قائداعظم کو خراجِ تحسین
تُو نے ذروں کو کرنوں کی دستار دی
سنگریزوں کو لعل و گوہر کر دیا
خاکِ رہ سے شعائیں لپکنے لگیں
گرد کو مہر کا ہمسفر کر دیا
تُو کہ تھا پیکرِ نظم و ضبط و یقین
تُو کہ تھا واقفِ رازِ فردا و دی
قدم قدم پر منتظر ہیں آج کامرانیاں
روش روش پہ ڈھونڈتی ہیں تجھ کو شادمانیاں
اُفق کے پار یہ شفق کی سُرخیاں، نہیں، نہیں
سُنا رہا ہے کوئی تیرے عزم کی کہانیاں
زبانِ خلق پر ہے تیری عظمتوں کی داستاں
تیرے بلند حوصلوں کا معترف ہے کُل جہاں
دام پھیلائے ہوئے حرص و ہوا ہیں کتنے
ایک بندہ ہے، مگر اس کے خدا ہیں کتنے
ایک اک ذرے میں پوشیدہ ہیں کتنے خورشید
ایک اک قطرے میں طوفان بپا ہیں کتنے
چند ہنستے ہوئے پھولوں کا چمن نام نہیں
غور سے دیکھ کہ پامال صبا ہیں کتنے
گیت
تجھ کو قسم ہے میری، نہ آنا ہاتھ خالی
آنکھوں میں بسنے والے، میرے چمن کے مالی
میرے چمن کے مالی ۔۔۔
کہتا ہے پیار میرا، تازہ گلاب لانا میرے واسطے صنم
تحفہ یہ میری خاطر، تُو لاجواب لانا، لانا سجا کے ڈالی