کیسی نظروں سے تکتے ہو تم بھی نا
پھر انجان سے بن جاتے ہو تم بھی نا
وصل کی خواہش سے لبریز تمہارا دل
پھر بھی جانے کا کہتے ہو تم بھی نا
جذبوں کا طوفان چھپا ہے سینے میں
لیکن پھر بھی چپ رہتے ہو تم بھی نا
کیسی نظروں سے تکتے ہو تم بھی نا
پھر انجان سے بن جاتے ہو تم بھی نا
وصل کی خواہش سے لبریز تمہارا دل
پھر بھی جانے کا کہتے ہو تم بھی نا
جذبوں کا طوفان چھپا ہے سینے میں
لیکن پھر بھی چپ رہتے ہو تم بھی نا
کیا بتاؤں کے مِرے واسطے کیا کیا تم ہو
میری غزلیں مِری نظمیں مِرا لہجہ تم ہو
دنیا والوں سے تعلق نہیں رکھا میں نے
مجھ کو دنیا سے غرض کیا مِری دنیا تم ہو
تم کو اس درجہ عقیدت سے پڑھا ہے جیسے
آسمانوں سے جو اترا وہ صحیفہ تم ہو
عشق اور انتظار توبہ ہے
درد وہ ہے کہ یار توبہ ہے
دل کے صحرا کی خشک دھرتی پر
اس قدر ہے غبار توبہ ہے
کیسی کیسی ہیں خواہشیں تیری
اے دلِ بے قرار توبہ ہے
جو بظاہر اداس ہوتے ہیں
لوگ وہ خود شناس ہوتے ہیں
ان کے اندر کا میل مت پوچھو
لوگ جو خوش لباس ہوتے ہیں
اپنی قسمت سے بھی نہیں واقف
جو ستارہ شناس ہوتے ہیں
مرنے سے بھی پہلے مر گئے ہیں
زندگی سے کچھ ایسے ڈر گئے ہیں
ملے ہیں زمانے سے گھاؤ ایسے
اب اپنے ہی سائے سے ڈر گئے ہیں
اک عمر سے دیکھ رہے تھے جو
وہ خواب سارے بکھر گئے ہیں
جن سے غم انتہا کے ملتے ہیں
ان سے ہم مسکرا کے ملتے ہیں
وہ جو خود چل کے آ نہیں پاتے
ان سے ہم لوگ جا کے ملتے ہیں
اپنا پن اٹھ گیا ہے دنیا سے
لوگ دامن بچا کے ملتے ہیں