Thursday, 11 May 2023

عشق اور انتظار توبہ ہے

 عشق اور انتظار توبہ ہے

درد وہ ہے کہ یار توبہ ہے

دل کے صحرا کی خشک دھرتی پر

اس قدر ہے غبار توبہ ہے

کیسی کیسی ہیں خواہشیں تیری

اے دلِ بے قرار توبہ ہے

بے گناہی کا جرم لے آیا

پھر ہمیں سُوئے دار توبہ ہے

اب تو کچا گھڑا بھی پاس نہیں

اور جانا ہے پار توبہ ہے

زرد کلیاں کھلی ہیں شاخوں پر

ہے خزاں یا بہار توبہ ہے

پیار کی پ سے جو نہیں واقف

وہ بھی کرتے ہیں پیار توبہ ہے


حنا علی

No comments:

Post a Comment