یہ نفرت گزیدہ ہیں انسان تیرے
انہیں پیار کا معجزہ دے خدایا
ابھی شاخساروں پہ افسردگی ہے
انہیں پیرہن پھر نیا دے خدایا
تیرے پیڑ پودے کہیں مر نہ جائیں
نسیمِ سحر دے، صبا دے خدایا
یہاں سانس لینا بھی دُوبھر ہوا ہے
گُھٹن بڑھ گئی ہے، ہوا دے خدایا
یہ شاعر، یہ تیرا ثناء خوان عادل
اسے جوش دے ولولہ دے خدایا
عادل صدیقی
شبیر صدیقی
No comments:
Post a Comment