میں اپنی ابتدا کی کھوج میں ہوں
میں بن باپ کا بچہ ہوں
کائنات کی کنواری دوشیزہ نے
نیلے پانیوں کی چادر کی اوٹ میں
مجھے اپنی کوکھ سے جنم دیا
اور ہوا کی ہتھیلی پر رکھ کر
میں اپنی ابتدا کی کھوج میں ہوں
میں بن باپ کا بچہ ہوں
کائنات کی کنواری دوشیزہ نے
نیلے پانیوں کی چادر کی اوٹ میں
مجھے اپنی کوکھ سے جنم دیا
اور ہوا کی ہتھیلی پر رکھ کر
اب کے میدان رہا لشکرِ اغیار کے ہاتھ
گروی اس پار پڑے تھے مِرے سالار کے ہاتھ
ذہن اس خوف سے ہونے لگے بنجر کہ یہاں
اچھی تخلیق پر کٹ جاتے ہیں معمار کے ہاتھ
اب سرِ قریۂ بے دست پڑا ہے کشکول
روز کٹ جاتے تھے اس شہر میں دو چار کے ہاتھ
کبھی دیوار کو ترسے، کبھی در کو ترسے
ہم ہوئے خانہ بدوش ایسے کہ گھر کو ترسے
جھوٹ بولوں تو چپک جائے زباں تالُو سے
جھُوٹ لکھوں تو مِرا ہاتھ ہُنر کو ترسے
قریۂ نامہ براں اب کے کہاں جائیں کہ جب
تِرے پہلو میں بھی ہم اس کی خبر کو ترسے
میرے پاس
ایک سیاہ تِل ہے
جسے میں نے سمرقند کی رہنے والی
ایک دل فروش عورت سے خریدا تھا
میں یہ تِل کسی گداز شانے کو
ہدیہ کرنا چاہتا ہوں
ہم اپاہج نہیں ہیں
محبت قرارداد نہیں جسے توڑا نہ جا سکے
بوسے زبان کے نیچے پڑے پڑے
زہر بننے لگیں
تو انہیں تھُوکا بھی جا سکتا ہے
انگلیوں کی پوروں میں ٹھہرا ہوا لمس
فلک پہ گونج رہی ہے مِری صدا؛ کوئی ہے
مِرے علاوہ بھی اس دہر میں بتا کوئی ہے
تِرے ابد کے مضافات سے گزرتا ہُوا
یہیں کہیں مِری دنیا میں راستہ کوئی ہے
بغیر اس کے مِری راکھ بجھنے لگتی ہے
کُھلا کہ میرا بھی سورج سے واسطہ کوئی ہے
تِرے پہلو میں لے آئی بچھڑ جانے کی خواہش
کہ گل کو شاخ تک لاتی ہے جھڑ جانے کی خواہش
تمہیں بسنے نہیں دیتا ہے بربادی کا دھڑکا
ہمیں آباد رکھتی ہے اجڑ جانے کی خواہش
خلا میں جو ستاروں کے غبارے اڑ رہے ہیں
انہیں پھیلائے رکھتی ہے سُکڑ جانے کی خواہش
اس کے گھر کا پتہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے
دو قدم فاصلہ، دو میل بھی ہو سکتا ہے
روک رکھا ہے جو آنسو پشِ مژگاں ہم نے
وہ اگر چاہیں تو ترسِیل بھی ہو سکتا ہے
فاختاؤں کے تعاقب میں یہاں آ تو گئے
یہ نگر شہرِ ابابیل بھی ہو سکتا ہے