Showing posts with label جواز جعفری. Show all posts
Showing posts with label جواز جعفری. Show all posts

Wednesday, 22 March 2023

میں اپنی ابتدا کی کھوج میں ہوں

 میں اپنی ابتدا کی کھوج میں ہوں


میں بن باپ کا بچہ ہوں

کائنات کی کنواری دوشیزہ نے

نیلے پانیوں کی چادر کی اوٹ میں

مجھے اپنی کوکھ سے جنم دیا

اور ہوا کی ہتھیلی پر رکھ کر

Wednesday, 30 June 2021

اب کے میدان رہا لشکر اغیار کے ہاتھ

 اب کے میدان رہا لشکرِ اغیار کے ہاتھ

گروی اس پار پڑے تھے مِرے سالار کے ہاتھ

ذہن اس خوف سے ہونے لگے بنجر کہ یہاں

اچھی تخلیق پر کٹ جاتے ہیں معمار کے ہاتھ

اب سرِ قریۂ بے دست پڑا ہے کشکول

روز کٹ جاتے تھے اس شہر میں دو چار کے ہاتھ

Friday, 25 June 2021

کبھی دیوار کو ترسے کبھی در کو ترسے

 کبھی دیوار کو ترسے، کبھی در کو ترسے

ہم ہوئے خانہ بدوش ایسے کہ گھر کو ترسے

جھوٹ بولوں تو چپک جائے زباں تالُو سے

جھُوٹ لکھوں تو مِرا ہاتھ ہُنر کو ترسے

قریۂ نامہ براں اب کے کہاں جائیں کہ جب

تِرے پہلو میں بھی ہم اس کی خبر کو ترسے

Thursday, 24 June 2021

میرے پاس ایک سیاہ تل ہے

 میرے پاس

ایک سیاہ تِل ہے

جسے میں نے سمرقند کی رہنے والی

ایک دل فروش عورت سے خریدا تھا

میں یہ تِل کسی گداز شانے کو

ہدیہ کرنا چاہتا ہوں  

محبت قرارداد نہیں جسے توڑا نہ جا سکے

 ہم اپاہج نہیں ہیں

محبت قرارداد نہیں جسے توڑا نہ جا سکے

بوسے زبان کے نیچے پڑے پڑے

زہر بننے لگیں

تو انہیں تھُوکا بھی جا سکتا ہے

انگلیوں کی پوروں میں ٹھہرا ہوا لمس

Wednesday, 23 June 2021

فلک پہ گونج رہی ہے مری صدا کوئی ہے

 فلک پہ گونج رہی ہے مِری صدا؛ کوئی ہے

مِرے علاوہ بھی اس دہر میں بتا کوئی ہے

تِرے ابد کے مضافات سے گزرتا ہُوا​

یہیں کہیں مِری دنیا میں راستہ کوئی ہے​

بغیر اس کے مِری راکھ بجھنے لگتی ہے​

کُھلا کہ میرا بھی سورج سے واسطہ کوئی ہے

Wednesday, 24 February 2021

ترے پہلو میں لے آئی بچھڑ جانے کی خواہش

 تِرے پہلو میں لے آئی بچھڑ جانے کی خواہش​

کہ گل کو شاخ تک لاتی ہے جھڑ جانے کی خواہش​

تمہیں بسنے نہیں دیتا ہے بربادی کا دھڑکا​

ہمیں آباد رکھتی ہے اجڑ جانے کی خواہش​

​خلا میں جو ستاروں کے غبارے اڑ رہے ہیں​

انہیں پھیلائے رکھتی ہے سُکڑ جانے کی خواہش​

Thursday, 18 February 2021

اس کے گھر کا پتہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے

 اس کے گھر کا پتہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے​

دو قدم فاصلہ، دو میل بھی ہو سکتا ہے​

روک رکھا ہے جو آنسو پشِ مژگاں ہم نے​

وہ اگر چاہیں تو ترسِیل بھی ہو سکتا ہے​

فاختاؤں کے تعاقب میں یہاں آ تو گئے​

یہ نگر شہرِ ابابیل بھی ہو سکتا ہے​