Showing posts with label علی اکبر عباس. Show all posts
Showing posts with label علی اکبر عباس. Show all posts

Thursday, 9 April 2026

بوسیدہ خدشات کا ملبہ دور کہیں دفناؤ

 بوسیدہ خدشات کا ملبہ دُور کہیں دفناؤ

جسموں کی اس شہر پنہ میں تازہ شہر بساؤ

سارے جسم کا ریشہ ریشہ سوچ کی قوت پائے

پھر ہر سانس کا حاصل چاہے صدیوں پر پھیلاؤ

اپنا آپ نہیں ہے سب کچھ اپنے آپ سے نکلو

بدبوئیں پھیلا دیتا ہے پانی کا ٹھہراؤ

Thursday, 29 August 2024

پانی میں بھی پیاس کا اتنا زہر ملا ہے

 پانی میں بھی پیاس کا اتنا زہر ملا ہے

ہونٹوں پر آتے ہر قطرہ سوکھ رہا ہے

اندھے ہو کر بادل بھاگے پھرتے ہیں

گاتے گاتے ایک پرندہ آگ ہوا ہے

پھول اور پھل تو تازہ کونپل پر آتے ہیں

پیلا پتہ اس وحشت میں ٹوٹ رہا ہے

Wednesday, 12 June 2024

دیوتاؤں کو پجاری کیا سزائیں دے گئے

 اپنے ناخن اپنے چہرے پر خراشیں دے گئے

گھر کے دروازے پہ کچھ بھوکے صدائیں دے گئے

جاگتے لوگوں نے شب ماروں کی جب چلنے نہ دی

دن چڑھے وہ روشنی کو بد دعائیں دے گئے

خود ہی اپنے ہاتھ کاٹے اور آنکھیں پھوڑ لیں

دیوتاؤں کو پجاری کیا سزائیں دے گئے

Friday, 10 March 2023

اندھیری بستیاں روشن منارے ڈوب جائیں گے

اندھیری بستیاں روشن منارے ڈوب جائیں گے

زمیں روتی رہی تو شہر سارے ڈوب جائیں گے

جھلس دیں گی جو صحرائی ہوائیں ریشمی سائے

دھوئیں کے زہر میں رنگیں نظارے ڈوب جائیں گے

ابھی سے کشتیاں سب ساحلوں کی سمت رخ موڑیں

کہ جب طوفان آیا پھر اشارے ڈوب جائیں گے