بوسیدہ خدشات کا ملبہ دُور کہیں دفناؤ
جسموں کی اس شہر پنہ میں تازہ شہر بساؤ
سارے جسم کا ریشہ ریشہ سوچ کی قوت پائے
پھر ہر سانس کا حاصل چاہے صدیوں پر پھیلاؤ
اپنا آپ نہیں ہے سب کچھ اپنے آپ سے نکلو
بدبوئیں پھیلا دیتا ہے پانی کا ٹھہراؤ
بوسیدہ خدشات کا ملبہ دُور کہیں دفناؤ
جسموں کی اس شہر پنہ میں تازہ شہر بساؤ
سارے جسم کا ریشہ ریشہ سوچ کی قوت پائے
پھر ہر سانس کا حاصل چاہے صدیوں پر پھیلاؤ
اپنا آپ نہیں ہے سب کچھ اپنے آپ سے نکلو
بدبوئیں پھیلا دیتا ہے پانی کا ٹھہراؤ
پانی میں بھی پیاس کا اتنا زہر ملا ہے
ہونٹوں پر آتے ہر قطرہ سوکھ رہا ہے
اندھے ہو کر بادل بھاگے پھرتے ہیں
گاتے گاتے ایک پرندہ آگ ہوا ہے
پھول اور پھل تو تازہ کونپل پر آتے ہیں
پیلا پتہ اس وحشت میں ٹوٹ رہا ہے
اپنے ناخن اپنے چہرے پر خراشیں دے گئے
گھر کے دروازے پہ کچھ بھوکے صدائیں دے گئے
جاگتے لوگوں نے شب ماروں کی جب چلنے نہ دی
دن چڑھے وہ روشنی کو بد دعائیں دے گئے
خود ہی اپنے ہاتھ کاٹے اور آنکھیں پھوڑ لیں
دیوتاؤں کو پجاری کیا سزائیں دے گئے
اندھیری بستیاں روشن منارے ڈوب جائیں گے
زمیں روتی رہی تو شہر سارے ڈوب جائیں گے
جھلس دیں گی جو صحرائی ہوائیں ریشمی سائے
دھوئیں کے زہر میں رنگیں نظارے ڈوب جائیں گے
ابھی سے کشتیاں سب ساحلوں کی سمت رخ موڑیں
کہ جب طوفان آیا پھر اشارے ڈوب جائیں گے