Showing posts with label غمگین دہلوی. Show all posts
Showing posts with label غمگین دہلوی. Show all posts

Monday, 6 April 2026

نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے

 نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے

امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے

نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر

تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے

مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ

مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے

Sunday, 26 January 2025

اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیا

 اس کے کُوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیا 

میں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیا 

گُم ہوا دل مِرے پہلو سے کہ پایا نہ گیا 

شاید اس کُوچہ میں جا اس سے پھر آیا نہ گیا 

دم بخود ہو کے موا اس کی نزاکت کے سبب 

آہ و نالہ بھی مجھے اس کو سنایا نہ گیا 

Thursday, 12 October 2023

جو نہ وہم و گمان میں آوے

جو نہ وہم و گمان میں آوے 

کس طرح تیرے دھیان میں آوے 

تجھ سے ہمدم رکھوں نہ پوشیدہ 

حالِ دل گر بیان میں آوے 

میری یہ آرزو ہے وقتِ مرگ 

اس کی آواز کان میں آوے 

Friday, 4 March 2022

میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا

میں نے ہر چند کہ اس کُوچے میں جانا چھوڑا

پر تصور میں مِرے اس نے نہ آنا چھوڑا

اس نے کہنے سے رقیبوں کے مجھے چھوڑ دیا

جس کی اُلفت میں دلا تُو نے زمانا چھوڑا

اُٹھ گیا پردۂ ناموس مِرے عشق کا آہ

اس نے کھڑکی میں جو چلمن کا لگانا چھوڑا