نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے
امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے
نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر
تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے
مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ
مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے
نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے
امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے
نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر
تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے
مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ
مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے
اس کے کُوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیا
میں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیا
گُم ہوا دل مِرے پہلو سے کہ پایا نہ گیا
شاید اس کُوچہ میں جا اس سے پھر آیا نہ گیا
دم بخود ہو کے موا اس کی نزاکت کے سبب
آہ و نالہ بھی مجھے اس کو سنایا نہ گیا
جو نہ وہم و گمان میں آوے
کس طرح تیرے دھیان میں آوے
تجھ سے ہمدم رکھوں نہ پوشیدہ
حالِ دل گر بیان میں آوے
میری یہ آرزو ہے وقتِ مرگ
اس کی آواز کان میں آوے
میں نے ہر چند کہ اس کُوچے میں جانا چھوڑا
پر تصور میں مِرے اس نے نہ آنا چھوڑا
اس نے کہنے سے رقیبوں کے مجھے چھوڑ دیا
جس کی اُلفت میں دلا تُو نے زمانا چھوڑا
اُٹھ گیا پردۂ ناموس مِرے عشق کا آہ
اس نے کھڑکی میں جو چلمن کا لگانا چھوڑا