Friday, 4 March 2022

میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا

میں نے ہر چند کہ اس کُوچے میں جانا چھوڑا

پر تصور میں مِرے اس نے نہ آنا چھوڑا

اس نے کہنے سے رقیبوں کے مجھے چھوڑ دیا

جس کی اُلفت میں دلا تُو نے زمانا چھوڑا

اُٹھ گیا پردۂ ناموس مِرے عشق کا آہ

اس نے کھڑکی میں جو چلمن کا لگانا چھوڑا

ہاتھ سے میرے وہ پیتا نہیں مُدت سے شراب

یارو! کیا اپنی خوشی میں نے پلانا چھوڑا

تیرے غمگیں کو پریشانی ہے اس روز سے یار

تُو نے جس روز سے زُلفوں کا بنانا چھوڑا


غمگین دہلوی

No comments:

Post a Comment