Friday, 4 March 2022

ہجر تازہ ہے تو دنیا کی نظر میں نہ رہو

 ہجر تازہ ہے تو دنیا کی نظر میں نہ رہو

اور کچھ روز کسی خیر خبر میں نہ رہو

آدمی اور پرندے کا نصیب ایک سا ہے

گھر چلانے کا تقاضا ہے کہ گھر میں نہ رہو

رتبۂ ہمسفری ہے تو بھلے چلتے رہو

شاملِ رختِ سفر ہو تو سفر میں نہ رہو

اتنا بدلاؤ طبیعت کے لیے ٹھیک نہیں

آتی جاتی ہوئی آہٹ کے اثر میں نہ رہو

یاد سے کیسے یہ کہہ سکتے ہیں مت آیا کرو

درد سے کیسے کہا جائے کہ سر میں نہ رہو


ہمایوں خان

No comments:

Post a Comment