ہجر تازہ ہے تو دنیا کی نظر میں نہ رہو
اور کچھ روز کسی خیر خبر میں نہ رہو
آدمی اور پرندے کا نصیب ایک سا ہے
گھر چلانے کا تقاضا ہے کہ گھر میں نہ رہو
رتبۂ ہمسفری ہے تو بھلے چلتے رہو
شاملِ رختِ سفر ہو تو سفر میں نہ رہو
اتنا بدلاؤ طبیعت کے لیے ٹھیک نہیں
آتی جاتی ہوئی آہٹ کے اثر میں نہ رہو
یاد سے کیسے یہ کہہ سکتے ہیں مت آیا کرو
درد سے کیسے کہا جائے کہ سر میں نہ رہو
ہمایوں خان
No comments:
Post a Comment