ہماری گلی میں وہ صورت نہیں ہے
یہ آفت نہیں ہے، قیامت نہیں ہے؟
مِرے دل جو سب سے قریبی تھے تیرے
تجھے ان کے جانے پہ حیرت نہیں ہے؟
بڑے آدمی ہم بھی بن جاتے، لیکن
ہمیں تیرے غم سے ہی فرصت نہیں ہے
یوں ہو جائے آسان دم کا نکلنا
وہ کہہ دیں کہ ہم سے محبت نہیں ہے
وہ جنت میں گر مجھ سے ملنے نہ آئے
تو کہتا پھروں گا؛ یہ جنت نہیں ہے
احمد عبداللہ
No comments:
Post a Comment