Showing posts with label ذوالفقار ذکی. Show all posts
Showing posts with label ذوالفقار ذکی. Show all posts

Tuesday, 6 December 2022

اس کے قریب تر جو ہو وہ در خرید لوں

اس کے قریب تر جو ہو، وہ در خرید لوں

سوچا ہے اس کے شہر میں اک گھر خرید لوں

بے کار ہی پڑا ہے یہ سینے کے وسط میں

بہتر ہے دل کو بیچ کے پتھر خرید لوں

تیرے سبھی خطوط میں ردی میں بیچ کر

دل ہے کہ آج بادہ و ساغر خرید لوں

Tuesday, 12 July 2022

تمہارے شہر سے باہر کو جو اٹھائے قدم

 تمہارے شہر سے باہر کو جو اٹھائے قدم

تو راستے میں کئی بار لڑکھڑائے قدم

پھر ان پہ جا بجا ہی آبلے ابھرنے لگے

سُلگتی ریت پہ مجنوں نے جب ٹکائے قدم

مِرے ہی قہقہے سے آنکھ کُھل گئی میری

کسی نے خواب میں آ کر یوں گُدگدائے قدم

Saturday, 3 April 2021

اس کی دہلیز پہ یوں پھول پڑے رہتے ہیں

اس کی دہلیز پہ یوں پھول پڑے رہتے ہیں

جیسے دربار میں نذرانے دھرے رہتے ہیں

میرے کمرے میں جو سِگرٹ کا دھواں اڑتا ہے

دیر تک اس میں تِرے نقش بنے رہتے ہیں

کون ہے جس نے یہاں قہر مچا رکھا ہے

کس لیے شہر کے یہ لوگ ڈرے رہتے ہیں

Monday, 14 December 2020

عجب یہ حالت بے چارگی ہے

عجب یہ حالتِ بے چارگی ہے

جہاں تک دیکھتا ہوں تیرگی ہے

مری باتوں میں بھی ہے اک اداسی

ترے لہجے میں بھی افسردگی ہے

لبوں پر ہے ابھی انکار لیکن

تری آنکھوں میں اک آمادگی ہے

Friday, 11 December 2020

دنیا کی تیز نظروں سے چہرہ چھپا کے رکھ

 دنیا کی تیز نظروں سے چہرہ چھپا کے رکھ

اس پر سپاہِ زلفوں کا پہرہ بٹھا کے رکھ

دل ہے کہ رقص آج میں دیکھوں شراب کا

ساقی! تُو میرے جام کو تھوڑا ہلا کے رکھ

یا روز ملنے آ مجھے سج دھج کے خواب میں

یا پھر اے جانِ من مری نیندیں اڑا کے رکھ

Thursday, 10 December 2020

کل تک جو میرے یار تھا باقی نہیں رہا

 کل تک جو میرے یار تھا، باقی نہیں رہا

تجھ پر جو اعتبار تھا، باقی نہیں رہا

جھٹکا یوں اس نے ہاتھ کہ آنکھیں ہی کھول دیں

برسوں کا جو خمار تھا، باقی نہیں رہا

پھر یوں ہوا کہ دونوں کے رستے بدل گئے

دونوں میں جو قرار تھا، باقی نہیں رہا

Friday, 20 November 2020

شہر میں جسے دیکھو اجنبی سا لگتا ہے

 شہر میں جسے دیکھو، اجنبی سا لگتا ہے

سب کا ملنا جلنا بھی سرسری سا لگتا ہے

کس طرح نبھاؤں میں مستقل مزاجی سے

اب تو ہر تعلق ہی عارضی سا لگتا ہے

جس طرح اداسی نے دل میں ڈیرے ڈالے ہیں

اس کا یہ بسیرا اب دائمی سا لگتا ہے

Thursday, 19 November 2020

جن کا دعویٰ تھا کہ لائیں گے وہ آدھا کر کے

 جن کا دعویٰ تھا کہ لائیں گے وہ آدھا کر کے

وہ بھی لے آئے مرا درد زیادہ کر کے

کل جو آیا تو اداسی کے سوا، آؤں گا

آج لوٹا ہوں سمندر سے یہ وعدہ کر کے

اس کے چہرے سےعیاں تھا کہ اسے جانا تھا

وہ تو آیا تھا، بچھڑنے کا ارادہ کر کے

Wednesday, 18 November 2020

مانا کہ محبت میں خسارا بھی بہت ہے

 مانا کہ محبت میں خسارا بھی بہت ہے

لیکن مرے دل کو یہ گوارا بھی بہت ہے

جاناں! یہ ترا حسن تو پہلے سے تھا، لیکن

اس کو مری چاہت نے نکھارا بھی بہت ہے

مجھ کو یوں بلانے کی بھی حاجت نہیں ہمدم

میرے لیے نظروں کا اشارا بھی بہت ہے