اس کے قریب تر جو ہو، وہ در خرید لوں
سوچا ہے اس کے شہر میں اک گھر خرید لوں
بے کار ہی پڑا ہے یہ سینے کے وسط میں
بہتر ہے دل کو بیچ کے پتھر خرید لوں
تیرے سبھی خطوط میں ردی میں بیچ کر
دل ہے کہ آج بادہ و ساغر خرید لوں
اس کے قریب تر جو ہو، وہ در خرید لوں
سوچا ہے اس کے شہر میں اک گھر خرید لوں
بے کار ہی پڑا ہے یہ سینے کے وسط میں
بہتر ہے دل کو بیچ کے پتھر خرید لوں
تیرے سبھی خطوط میں ردی میں بیچ کر
دل ہے کہ آج بادہ و ساغر خرید لوں
تمہارے شہر سے باہر کو جو اٹھائے قدم
تو راستے میں کئی بار لڑکھڑائے قدم
پھر ان پہ جا بجا ہی آبلے ابھرنے لگے
سُلگتی ریت پہ مجنوں نے جب ٹکائے قدم
مِرے ہی قہقہے سے آنکھ کُھل گئی میری
کسی نے خواب میں آ کر یوں گُدگدائے قدم
اس کی دہلیز پہ یوں پھول پڑے رہتے ہیں
جیسے دربار میں نذرانے دھرے رہتے ہیں
میرے کمرے میں جو سِگرٹ کا دھواں اڑتا ہے
دیر تک اس میں تِرے نقش بنے رہتے ہیں
کون ہے جس نے یہاں قہر مچا رکھا ہے
کس لیے شہر کے یہ لوگ ڈرے رہتے ہیں
عجب یہ حالتِ بے چارگی ہے
جہاں تک دیکھتا ہوں تیرگی ہے
مری باتوں میں بھی ہے اک اداسی
ترے لہجے میں بھی افسردگی ہے
لبوں پر ہے ابھی انکار لیکن
تری آنکھوں میں اک آمادگی ہے
دنیا کی تیز نظروں سے چہرہ چھپا کے رکھ
اس پر سپاہِ زلفوں کا پہرہ بٹھا کے رکھ
دل ہے کہ رقص آج میں دیکھوں شراب کا
ساقی! تُو میرے جام کو تھوڑا ہلا کے رکھ
یا روز ملنے آ مجھے سج دھج کے خواب میں
یا پھر اے جانِ من مری نیندیں اڑا کے رکھ
کل تک جو میرے یار تھا، باقی نہیں رہا
تجھ پر جو اعتبار تھا، باقی نہیں رہا
جھٹکا یوں اس نے ہاتھ کہ آنکھیں ہی کھول دیں
برسوں کا جو خمار تھا، باقی نہیں رہا
پھر یوں ہوا کہ دونوں کے رستے بدل گئے
دونوں میں جو قرار تھا، باقی نہیں رہا
شہر میں جسے دیکھو، اجنبی سا لگتا ہے
سب کا ملنا جلنا بھی سرسری سا لگتا ہے
کس طرح نبھاؤں میں مستقل مزاجی سے
اب تو ہر تعلق ہی عارضی سا لگتا ہے
جس طرح اداسی نے دل میں ڈیرے ڈالے ہیں
اس کا یہ بسیرا اب دائمی سا لگتا ہے
جن کا دعویٰ تھا کہ لائیں گے وہ آدھا کر کے
وہ بھی لے آئے مرا درد زیادہ کر کے
کل جو آیا تو اداسی کے سوا، آؤں گا
آج لوٹا ہوں سمندر سے یہ وعدہ کر کے
اس کے چہرے سےعیاں تھا کہ اسے جانا تھا
وہ تو آیا تھا، بچھڑنے کا ارادہ کر کے
مانا کہ محبت میں خسارا بھی بہت ہے
لیکن مرے دل کو یہ گوارا بھی بہت ہے
جاناں! یہ ترا حسن تو پہلے سے تھا، لیکن
اس کو مری چاہت نے نکھارا بھی بہت ہے
مجھ کو یوں بلانے کی بھی حاجت نہیں ہمدم
میرے لیے نظروں کا اشارا بھی بہت ہے