Thursday, 19 November 2020

جن کا دعویٰ تھا کہ لائیں گے وہ آدھا کر کے

 جن کا دعویٰ تھا کہ لائیں گے وہ آدھا کر کے

وہ بھی لے آئے مرا درد زیادہ کر کے

کل جو آیا تو اداسی کے سوا، آؤں گا

آج لوٹا ہوں سمندر سے یہ وعدہ کر کے

اس کے چہرے سےعیاں تھا کہ اسے جانا تھا

وہ تو آیا تھا، بچھڑنے کا ارادہ کر کے

اپنے پیروں میں، وفاؤں کو کچلنے والے

کیسے پھرتے ہیں وہ سینے یوں کشادہ کر کے

روز جاتا ہوں ذکی، جانبِ نفرت لیکن

لوٹ آتا ہوں ، محبت کا اعادہ کر کے


ذوالفقار ذکی

No comments:

Post a Comment