کچھ کاغذی لباس تھے اور حاشیے چراغ
محرابِ حرف و شعر میں ہم نے دھرے چراغ
کل رات ایک شخص کسی دائرے میں تھا
اور رات بھر بناتے رہے دائرے چراغ
سنتا رہا میں بیٹھ کے نصرت کی اک غزل
اس شام میری آنکھ میں جلتے رہے چراغ
کچھ کاغذی لباس تھے اور حاشیے چراغ
محرابِ حرف و شعر میں ہم نے دھرے چراغ
کل رات ایک شخص کسی دائرے میں تھا
اور رات بھر بناتے رہے دائرے چراغ
سنتا رہا میں بیٹھ کے نصرت کی اک غزل
اس شام میری آنکھ میں جلتے رہے چراغ
یہ صبح و شام بندش دیوار و در ہے کیا
یعنی حصارِ خاک میں رہنا ہی گھر ہے کیا
وہ آنکھ کیا ہے؟ اس کا تکلف نہ پوچھیے
شب کا ہے موج میلہ ردائے سحر ہے کیا
اب بھی کسی منڈیر پہ جلتے ہیں کیا چراغ
اب بھی کسی کی آنکھ سرِ رہگزر ہے کیا
بکھرا پڑا ہوا کہیں رسوائیوں میں تھا
لمحہ جو ایک وقت کی رعنائیوں میں تھا
اک مرمریں سے ہاتھ نے کھولے مِرے بٹن
پھر میں کسی کے لمس کی گہرائیوں میں تھا
وہ تھا گئے دنوں کی اذیت میں مبتلا
میں بھی کسی قیاس کی پرچھائیوں میں تھا
صبح کی پہلی کرن روز یہی پوچھتی ہے
کیا شب ہجرِ تِرا حال کبھی پوچھتی ہے
جانے میں کتنے زمانوں سے گزر آیا ہوں
وقت اب مجھ سے یہ کمرے کی گھڑی پوچھتی ہے
وہی چکر ہے شب وروز کا پاؤں میں مِرے
زندگی مجھ سے کوئی بات نئی پوچھتی ہے
کن زمانوں کا ہے نم کاغذ پر
کیا لکھے رہ گئے غم کاغذ پر
بات آتی ہے ادھوری لب تک
اور پھر اس سے بھی کم کاغذ پر
شعر لکھتا ہوں کہ مصرع مصرع
ہے غزالوں کا یہ رم کاغذ پر
خواب اتنے بھی پُر اسرار نہیں ہوتے تھے
ہاں مگر، ہم کبھی بیدار نہیں ہوتے تھے
کیسی موجیں تھیں مجھے کھینچ کے لے جاتی تھیں
کیسے دریا تھے، کبھی پار نہیں ہوتے تھے
حاکمِ وقت! تِری بات کے مُنکر تھے کئی
سبھی مجرم تو گُنہ گار نہیں ہوتے تھے
جاتی ہوئی بہار کے جانے سے پیشتر
آ جا خزاں کا لمس جگانے سے پیشتر
سو بار دیکھتا ہے اجازت کی آنکھ سے
اک پھول میرے ہاتھ سے جانے سے پیشتر
کس پر مِرے خیال کی وسعت نہیں کھلی
میں غزلیں دیکھتا ہوں سنانے سے پیشتر
عشق جن کو بھی تیرا مل جائے
وہ بڑے خاص لوگ ہوتے ہیں
دل کوئی رہ گزر نہیں ہوتا
دل میں کچھ خاص لوگ ہوتے ہیں
حال دل جب بھی کہنے جاتا ہوں
آپ کے پاس لوگ ہوتے ہیں
خود کلامی میں نیا رنگ بھی ڈالا جائے
اب کسی طور مجھے خود سے نکالا جائے
پہلے پتوں میں مِرا ذکر تو شامل کر ناں
پھر کہیں سبز کہیں زرد حوالہ جائے
میری قسمت میں کوئی ہار تو لکھی ہی نہیں
اب ذرا سوچ کے سِکہ بھی اُچھالا جائے
جس کو پاسِ وفا رہا ہی نہیں
ہم کو اس سے کوئی گِلہ ہی نہیں
عقل رہتی ہے ضابطوں کی اسیر
عشق کا کوئی ضابطہ ہی نہیں
عشق کی رہگزر پہ نکلے ہیں
جس میں اپنا اتا پتا ہی نہیں
ایک کھڑکی کھلی دسمبر میں
اور ملی زندگی دسمبر میں
شال رکھ دی سنبھال کر تیری
یاد اوڑھی تری دسمبر میں
دیکھ پھر شام سرد ہونے لگی
پھر کمی ہے تری دسمبر میں