Showing posts with label سہیل رائے. Show all posts
Showing posts with label سہیل رائے. Show all posts

Monday, 17 October 2022

کچھ کاغذی لباس تھے اور حاشیے چراغ

 کچھ کاغذی لباس تھے اور حاشیے چراغ

محرابِ حرف و شعر میں ہم نے دھرے چراغ

کل رات ایک شخص کسی دائرے میں تھا

اور رات بھر بناتے رہے دائرے چراغ

سنتا رہا میں بیٹھ کے نصرت کی اک غزل

اس شام میری آنکھ میں جلتے رہے چراغ

Monday, 4 April 2022

یہ صبح و شام بندش دیوار و در ہے کیا

 یہ صبح و شام بندش دیوار و در ہے کیا

یعنی حصارِ خاک میں رہنا ہی گھر ہے کیا

وہ آنکھ کیا ہے؟ اس کا تکلف نہ پوچھیے

شب کا ہے موج میلہ ردائے سحر ہے کیا

اب بھی کسی منڈیر پہ جلتے ہیں کیا چراغ

اب بھی کسی کی آنکھ سرِ رہگزر ہے کیا

Friday, 25 March 2022

بکھرا پڑا ہوا کہیں رسوائیوں میں تھا

 بکھرا پڑا ہوا کہیں رسوائیوں میں تھا

لمحہ جو ایک وقت کی رعنائیوں میں تھا

اک مرمریں سے ہاتھ نے کھولے مِرے بٹن

پھر میں کسی کے لمس کی گہرائیوں میں تھا

وہ تھا گئے دنوں کی اذیت میں مبتلا

میں بھی کسی قیاس کی پرچھائیوں میں تھا

Tuesday, 22 March 2022

صبح کی پہلی کرن روز یہی پوچھتی ہے

 صبح کی پہلی کرن روز یہی پوچھتی ہے

کیا شب ہجرِ تِرا حال کبھی پوچھتی ہے

جانے میں کتنے زمانوں سے گزر آیا ہوں

وقت اب مجھ سے یہ کمرے کی گھڑی پوچھتی ہے

وہی چکر ہے شب وروز کا پاؤں میں مِرے

زندگی مجھ سے کوئی بات نئی پوچھتی ہے

Wednesday, 23 February 2022

کن زمانوں کا ہے نم کاغذ پر

کن زمانوں کا ہے نم کاغذ پر

کیا لکھے رہ گئے غم کاغذ پر

بات آتی ہے ادھوری لب تک

اور پھر اس سے بھی کم کاغذ پر

شعر لکھتا ہوں کہ مصرع مصرع

ہے غزالوں کا یہ رم کاغذ پر

Wednesday, 22 December 2021

خواب اتنے بھی پر اسرار نہیں ہوتے تھے

 خواب اتنے بھی پُر اسرار نہیں ہوتے تھے

ہاں مگر، ہم کبھی بیدار نہیں ہوتے تھے

کیسی موجیں تھیں مجھے کھینچ کے لے جاتی تھیں

کیسے دریا تھے، کبھی پار نہیں ہوتے تھے

حاکمِ وقت! تِری بات کے مُنکر تھے کئی

سبھی مجرم تو گُنہ گار نہیں ہوتے تھے

Wednesday, 20 October 2021

جاتی ہوئی بہار کے جانے سے پیشتر

 جاتی ہوئی بہار کے جانے سے پیشتر

آ جا خزاں کا لمس جگانے سے پیشتر

سو بار دیکھتا ہے اجازت کی آنکھ سے

اک پھول میرے ہاتھ سے جانے سے پیشتر

کس پر مِرے خیال کی وسعت نہیں کھلی

میں غزلیں دیکھتا ہوں سنانے سے پیشتر

Friday, 10 September 2021

عشق جن کو بھی تیرا مل جائے

 عشق جن کو بھی تیرا مل جائے

وہ بڑے خاص لوگ ہوتے ہیں

دل کوئی رہ گزر نہیں ہوتا

دل میں کچھ خاص لوگ ہوتے ہیں

حال دل جب بھی کہنے جاتا ہوں

آپ کے پاس لوگ ہوتے ہیں

Sunday, 9 May 2021

خود کلامی میں نیا رنگ بھی ڈالا جائے

 خود کلامی میں نیا رنگ بھی ڈالا جائے

اب کسی طور مجھے خود سے نکالا جائے

پہلے پتوں میں مِرا ذکر تو شامل کر ناں

پھر کہیں سبز کہیں زرد حوالہ جائے

میری قسمت میں کوئی ہار تو لکھی ہی نہیں

اب ذرا سوچ کے سِکہ بھی اُچھالا جائے

Thursday, 1 April 2021

جس کو پاس وفا رہا ہی نہیں

 جس کو پاسِ وفا رہا ہی نہیں

ہم کو اس سے کوئی گِلہ ہی نہیں

عقل رہتی ہے ضابطوں کی اسیر

عشق کا کوئی ضابطہ ہی نہیں

عشق کی رہگزر پہ نکلے ہیں

جس میں اپنا اتا پتا ہی نہیں

Sunday, 6 December 2020

ایک کھڑکی کھلی دسمبر میں

 ایک کھڑکی کھلی دسمبر میں

اور ملی زندگی دسمبر میں

شال رکھ دی سنبھال کر تیری

یاد اوڑھی تری دسمبر میں

دیکھ پھر شام سرد ہونے لگی

پھر کمی ہے تری دسمبر میں